تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 226
خطبہ جمعہ فرمود و 30 نومبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم حالانکہ چودھواں سال سخت تباہی کا سال تھا، اس میں ملک کے دوٹکڑے ہو چکے تھے، بہت لوگ اپنی جائیدادوں سے محروم ہو گئے تھے اور آئندہ کے متعلق انھیں کوئی امید نہیں رہی تھی۔گواب اکثروں نے یہاں آکر اپنی جائیداد میں بنالی ہیں۔بلکہ بہتوں کے لئے ملک کی یہ تقسیم بابرکت ہوگئی ہے۔وہ لوگ جن کی وہاں صرف دودو، چار چار کنال زمین تھی، یہاں آکر ان کو سات سات، آٹھ آٹھ گھماؤں زمین مل گئی ہے۔لیکن وہ لوگ جن کی وہاں زیادہ زمینیں تھیں، ان کو یہاں کم زمینیں ملیں ہیں۔بہر حال چودہواں سال ، وہ سال ہے، جو ہماری جماعت کے لئے ایک نازک ترین سال تھا۔اس وقت کم جائیدادوں کے باوجود، کم سامانوں کے باوجود، کم آمد نیوں کے باوجود جماعت نے دولاکھ، تر اسی ہزار کے وعدے کئے تھے۔لیکن اگلے سال جماعت کے وعدے اس سے کم ہو گئے۔یعنی پندرہویں سال میں جماعت کے وعدے دولاکھ ، پچھتر ہزار ہو گئے۔سولہویں سال میں آکر کوئی دو لاکھ ستر ہزار کے قریب ہو گئے اور ستر ہویں سال میں آ کروہ دولاکھ، تریسٹھ ہزار ہو گئے۔گویا جو اصل مصیبت کا وقت تھا، اس وقت جماعت نے وعدوں کے لحاظ سے اپنی قربانی کو تیز کر دیا۔لیکن جب وقفہ بڑھتا چلا گیا تو بعض لوگ اپنے ایمان کے معیار کو اس حد تک قائم نہ رکھ سکے ، جس حد تک خوف اور مصیبت کے زمانہ میں انہوں نے اپنے ایمان کو قائم رکھا تھا۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ یہ زیادتی در حقیقت ان لوگوں کی طرف سے تھی ، جو تقسیم کی ضرب سے محفوظ رہے۔چونکہ تازہ بتازہ انھوں نے یہ بات دیکھی تھی کہ ان کے بھائی اپنی جائیدادوں سے بے دخل کر دیئے گئے، اپنے گھروں سے بے دخل کر دیئے گئے اور اپنے سامانوں سے بے دخل کر دیئے گئے اور اپنے وطنوں سے نکال دیئے گئے۔اس لئے ان کے دل ہل گئے اور انھوں نے سمجھا کہ یہ دنیا بے ثبات ہے، اس کی دولت کا کوئی اعتبار نہیں۔چلو خدا تعالیٰ کے راستہ میں ہی ہم اپنے اموال کو قربان کر کے اس کی رضا حاصل کریں۔جب سال گذر گیا تو وہ خوف کم ہو گیا اور ایمان ، اس معیار پر نہ رہا، جس پر پہلے تھا اور وعدے پہلے سے کم ہو گئے۔جب دو سال گذر گئے تو ایمان اور بھی نیچے آ گیا اور جب تین سال گذرے تو ایمان اس سے بھی زیادہ نیچے آ گیا۔اور 47ء کی وہ مصیبت ، آفت اور تباہی ، جو مسلمانوں پر آئی تھی، انہیں بھول گئی۔پس ہو سکتا ہے کہ اس کی کمی کی ایک یہ وجہ بھی ہو لیکن یہ توجیح کرنی طبیعت پر گراں گذرتی ہے اور دل کو تکلیف پہنچاتی ہے۔کیونکہ اس سے ایک اور نتیجہ بھی نکلتا ہے، جو خطرناک ہے۔جہاں ہم اس کمی کی یہ توجیح کر لیتے ہیں کہ در حقیقت یہ زیادتی ان لوگوں کی طرف سے ہوئی تھی ، جن پر مصیبت نہیں آئی تھی۔اور اس وجہ سے ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے ساتھ کے مسلمانوں کی تباہی کو دیکھا اور وہ اتناڈر 226