تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 219
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 1951ء صورت میں وعدے لیے گئے ہیں۔لیکن نصف کے قریب رپورٹیں ایسی ہیں ، جن میں صرف قلم سے لکھ دیا گیا ہے کہ دھواں دھار تقریریں کی گئیں۔لیکن نہ ان میں دھواں تھا اور نہ دھار تھی۔ان کے نتیجہ میں نہ کسی نے وعدہ کیا اور نہ کسی نے وعدہ ادا کیا۔حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ جماعت کے دوستوں کو بلا کر ان سے پوچھا جاتا کہ وہ وعدے کب ادا کریں گے؟ دس دن کے بعد ادا کریں گے یا پندرہ دن کے بعد ادا کریں گے؟ اور اگر وہ کہتے کہ ہمیں تکلیف ہے تو انہیں کہا جاتا تم نے یہ مشکل خود اپنے لئے پیدا کی ہے۔اگر پہلے سے اس طرف توجہ کرتے تو یہ مشکل پیدا نہ ہوتی۔اب اگر تم تکلیف میں پڑ گئے ہو تو اس کی سزا تمہیں بھگتنی پڑے گی۔اس کی سز ا سلسلہ کیوں بھگتے ؟ اگر ایسا کیا جاتا تو لازمی بات تھی کہ اس کا نتیجہ نور نکلتا۔لیکن بعض لوگوں کی طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی تعریف آپ کرنا چاہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے وہ وہ دلائل دیئے ہیں ، ہم نے وہ وہ باتیں کی ہیں کہ کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں اور اس طرح وہ اپنی تعریف کے پل باندھ دیتے ہیں لیکن وہ سب دلائل اور باتیں رطب و یا بس ہوتی ہیں۔بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ وہ دھواں دھار تقریر کر ہی نہیں سکتیں“۔وو لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ مفت میں تعریف کرانے اور انعام حاصل کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔کوئی ایک آدھ بات کریں گے اور کہہ دیں گے کہ میں نے دھواں دھار تقریر کی۔دھوئیں سے تو رونا آتا ہے، کیا تمہاری تقریر سے سامعین کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے؟ پھر دھوئیں سے پانی گرتا ہے، کیا سامعین عرق ندامت سے بھیگ گئے تھے؟ اور اگر ایسا ہوتا اور سامعین کو کہ دیا جاتا کہ اب خواہ کوئی چیز بیچیں لیکن وعدہ کو ضرور وفا کریں۔اور پھر ایک حد تک وعدے ادا ہو جاتے تو ہم سمجھتے کہ تقریر دھواں دھار تھی۔لیکن ان تقریروں کے نتیجہ میں نہ تو کسی کی آنکھوں میں آنسو آئے اور نہ کسی کو ندامت کی وجہ سے پسینہ آیا۔جیسے لوگ ہنستے ہوئے آئے تھے، ویسے ہنستے ہوئے چلے گئے۔نہ کسی نے جیب سے پیسہ نکالا اور نہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کا وعدہ کیا۔پھر دھواں دھار کیا ہوا ؟ مفت میں تعریف حاصل کرنا، کوئی چیز نہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی ذمہ داری کارکنوں پر ہے کہ انہوں نے جماعت کے افراد کو صحیح رستہ پر لانے کی کوشش نہیں کی۔جلسہ کی غرض یہ تھی کہ وہ لوگوں کو ان کی غلطی کا احساس کرا دیتے اور انہیں نادم کرتے اور اس کے بعد وعدے وصول کرتے۔اور اگر دس پندرہ 219