تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 218
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم خطرناک چیز ہے۔اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تحریک جدید میں وعدہ کرنے والے سب مخلص نہیں ہیں بلکہ جماعت کا کمزور طبقہ محض دکھاوے کی خاطر اس میں وعدہ کر دیتا ہے۔یہ کتنی خطرناک بات ہے۔یا پھر یہ بات ہے کہ رپورٹ کرنے والوں نے سچائی سے کام نہیں لیا۔تقریریں کرنے والے جلسہ میں آئے اور تقریریں کر کے چلے گئے اور چندہ کی وصولی یا وصولی کے معین وعدے نہیں لیے اور جماعت میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا نہیں ہوا۔اس قسم کے جلسوں کا بلا فائدہ ہی کیا ہے؟ جو دھواں دھار تقریریں ہوا کرتی ہیں ، وہ دلوں کو ہلا دیتی ہیں اور ان کے نتیجہ میں انسان اپنے اندر تبدیلی محسوس کرتا ہے۔یہ جلسے اس لئے کیے گئے تھے کہ جن لوگوں نے سستی اور غفلت کی وجہ سے ابھی تک وعدے ادا نہیں کیے، انہیں کہا جائے کہ اگر تم اب وعدے ادا نہیں کرو گے تو کب کرو گے؟ اگر تم نے ابھی تک وعدہ نہیں کیا یا اس کی ادائیگی میں ستی کی ہے تو اس سے جماعت کو کیا ؟ خواہ تم فاقہ کرو، تکلیف برداشت کرو، اس وعدہ کو ادا کرو۔جن کے پاس رقوم ہیں، وہ ابھی ادا کر دیں اور جن کے پاس گنجائش نہیں، وہ وعدہ کریں کہ جلد سے جلد کس دن ادا کر دیں گے؟ اگر اس طرح کیا گیا ہے، تب تو جلسہ کا کوئی مطلب ہوا۔ورنہ خالی تقریریں کسی کام کی نہیں۔بعض دفعہ تقریر کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس نے دھواں دھار تقریر کی ہے۔حالانکہ وہ دھواں دھار تقریر ہی کیا ، جس کے نتیجہ میں نہ کسی نے وعدہ کیا اور نہ کسی نے اپنا وعدہ پورا کیا ؟ وہ خالی دھواں ہوسکتا ہے، جس کے تلے آگ نہیں۔وہ محض مٹی اور غبار تھا، جواڑا۔ورنہ جہاں آگ لگی ہو، وہاں عشق کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ حقیقی دھواں ہو اور پھر اس کے نیچے آگ نہ ہو۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ تمہارے اندر آگ ہو اور تمہارا ہمسایہ اس سے کوئی اثر قبول نہ کرے۔اگر تمہارے گھر کو آگ لگتی ہے تو اول تو تمہارے ہمسایہ کا گھر بھی جل جاتا ہے ، ورنہ وہ جھلستا ضرور ہے۔اسی طرح اگر تمہارے دل میں آگ لگی ہوئی ہے تو تمہارے ہمسایہ کے اندر بھی آگ لگ جائے گی۔اگر آگ نہیں لگتی تو وہ بے تاب ضرور ہو جائے گا۔پس اگر ان تقریروں کے نتیجہ میں سننے والوں کے اندر آگ نہیں لگی تو پھر یہ کس قسم کی دھواں دھار تقریریں تھیں؟ نہ تو وہاں دھواں نظر آتا ہے، نہ دھار نظر آتی ہے۔صرف زیب داستاں کے لئے رپورٹیں بھیج دی جاتی ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ساری جماعتوں نے ایسا کیا ہے۔ان رپورٹوں میں سے، جو میرے پاس آئی ہیں، بعض ایسی بھی ہیں، جو بہت خوش کن ہیں۔جماعت کے دوستوں کو بلا کر ان پر زور دیا گیا ہے کہ وعدے ادا کرو اور اگر وعدے نہیں کیے تو اب وعدے کرو اور یہ وعدے جلد ادا کرو۔غرض ان سے معین 218