تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 10

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 1948ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم جس قسم کے حالات جماعت کو آئندہ پیش آنے والے ہیں، وہ نہایت خطرناک ہیں۔پہلے بھی میں نے تفصیل سے حالات نہیں بتائے تھے، صرف اجمالاً آئندہ آنے والی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔اور تم نے دیکھا کہ جو کچھ میں نے کہا تھا، وہ لفظاً لفظ پورا ہوا۔اب میں اس سے بھی زیادہ خطرناک حالات جماعت کے متعلق دیکھتا ہوں۔میں اس سے بھی زیادہ مشکلات احمدیت کے راستہ میں حائل ہوتی ہوئی دیکھتا ہوں۔احمدیت تو بہر حال غالب آئے گی۔لیکن احمدیت کی جنگ 20-15 سال سے زیادہ نہیں چل سکتی۔15-20 سال کے عرصہ میں یا تم غالب آجاؤ گے یا تم تباہ کر دیئے جاؤ گے۔ان دونوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہے گی۔میں تم“ کا لفظ استعمال کرتا ہوں ، احمدیت کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔کیونکہ احمدیت بہر حال غالب آئے گی۔صرف 20-15 سال کی مہلت ہے، جو تمہیں دی گئی ہے۔ان پندرہ بیس سالوں میں سے ہر پہلا سال آئندہ آنے والے سال سے زیادہ قیمتی ہے۔48ء، 49ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 1949ء 50 ء سے زیادہ قیمتی ہے۔اور 50ء،51 ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 51ء،52 ء سے زیادہ قیمتی ہے اور 52ء،53 ء سے زیادہ قیمتی ہے۔تم اگر یہ کہو کہ اگر میں نے 48ء میں یہ کام نہیں کیا تو کیا ہوا ،49ء میں کرلیں گے؟ تو تم کچھ نہیں کر سکو گے۔لیکن اگر تم یہ کہو گے کہ 49ء کا کام ، ہم 48ء میں کر لیں۔تب بے شک تمہاری کامیابی قریب آ سکتی ہے۔بہر حال اس زمانہ میں سب سے بڑا فرض اور سب سے اہم فرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد پر عائد ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ قادیان سے نکلے اور نظام کے درہم برہم ہو جانے پر بجائے اس کے کہ جماعت کے نوجوان خدمت دین کے لیے آگے آتے ، قریباً چالیس فیصدی انجمن کے کارکنان بھاگ کر باہر چلے گئے ہیں۔گویا جس وقت لوگ دنیا میں اکھٹے ہو جایا کرتے ہیں، اس وقت ہماری جماعت کے نوجوانوں نے غداری اور بے ایمانی کا ثبوت دیا۔بجائے اس کے کہ وہ اپنے کام چھوڑ کر سلسلہ کی خدمت کے لئے آ جاتے ، وہ سلسلہ کا کام چھوڑ کر باہر چلے گئے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بہتوں کے منہ پر یہ الفاظ ہیں کہ اگر ہم باہر نہ جائیں تو کھائیں کہاں سے؟ مگر یہ سوال صرف تمہارے سامنے ہی نہیں بلکہ پہلی جماعتوں کے سامنے بھی یہ سوال تھا۔اور پھر بھی وہ دین کا کام کرتی چلی گئیں۔پس میں کہتا ہوں کہ اگر یہ سوال غلط اور بے معنی ہے تو پھر وہ کون ہے، جس کو سب سے زیادہ سزا ملے گی اور وہ خدا کے سامنے ایک ذلیل چور کی حیثیت میں پیش ہوگا؟ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے ایسے افراد۔یہ لوگ اس دنیا میں بھی ذلیل کئے جائیں گے اور اگلے جہاں میں بھی ذلیل کئے جائیں گے۔یہ کوئی 10