تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 214

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء جواب بھیجتے ہیں، پہلے ستی ہو گئی تھی ، اب نہیں ہوگی لیکن کاغذ بھی پاس رکھ لیتے ہیں۔پھر چند دن کے بعد یہ سمجھ کر کے میں بھول گیا ہوں گا، بے فکر ہو جاتے ہیں۔غرض مرکز میں بھی اب نقص پیدا ہو رہا ہے۔وکلاء اس معیار پر قائم نہیں، جس معیار پر انہیں قائم ہونا چاہیے تھا۔وہ ذاتی طور پر بہت کم کام کرتے ہیں اور دوسروں سے کام لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ساری عمر ہم نے خود کام کیا۔اور دفتر سے پتہ کیا جا سکتا ہے کہ میرے ہاتھ کا لکھا ہوا روزانہ کتنا ہوتا ہے؟ بے شک اب نقرس (Cout) کی وجہ سے مجھ سے لکھا کم جاتا ہے اور اکثر اوقات میں کسی دوسرے شخص سے لکھواتا ہوں لیکن یہ بیماری کی وجہ سے ہے، پہلے میں کتا بیں بھی تصنیف کرتا تھا اور اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا، ڈاک پر نوٹ بھی میں خود لکھتا تھا، مسلوں پر نوٹ بھی میں خود لکھتا تھا اور یہ کبھی نہیں ہوا تھا کہ میں نے اس کام کے لئے کوئی آدمی رکھا ہو۔اب بھی شوق ہے کہ میں انگلیوں کو کام کی عادت ڈالوں اور پھر خود کام کرنا شروع کر دوں۔لیکن نقرس کی وجہ سے انگلیاں چلتی نہیں۔پھر بھی ہر ناظر اور وکیل سے زیادہ تحریر میری ہوتی ہے۔بہر حال دفتر میں یہ نقص بھی ہے کہ وکلاء خود کام کم کرتے ہیں اور عملہ کو بڑھاتے جا رہے ہیں۔لیکن اس کا تعلق آمد سے نہیں ، صرف تحریک کی روح کی خلاف ورزی ہے۔آمد سے تعلق تب ہوتا ہے، اگر وعدوں سے بجٹ کو بڑھا کر مگر ایسا نہیں۔خرچ کے بجٹ میں زیادتی ہوتی تو مرکزی انجمن ذمہ دار تھی۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ آمد کم ہورہی ہے۔چھ ماہ میں جہاں تین لاکھ روپیہ وصول ہو جاتا تھا، وہاں اب نو ماہ میں صرف ڈیڑھ لاکھ روپیہ وصول ہوا ہے۔حالانکہ ملک میں آمد میں بڑھ رہی ہیں۔جب سے پاکستان بنا ہے، ملک آزاد ہو جانے کی وجہ سے تجارت اور صنعت بڑھ گئی ہے۔جس کا ماہوار آمدنوں پر اثر پڑا ہے۔سنٹرل گورنمنٹ نے اب جو گریڈ بنائے ہیں، اس پر دو کروڑ روپیہ زائد خرچ آئے گا اور جن لوگوں کے گریڈ بڑھے ہیں، ان میں احمدی بھی ہیں۔پھر صوبائی حکومت نے بھی تنخواہوں میں زیادتی کی ہے اور ملکی آزادی کی وجہ سے لوگوں کی آمد نہیں بڑھ گئی ہیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ چندے بڑھ جائیں۔" میں جماعت سے کہوں گا کہ جو لوگ کام کرنا نہیں چاہتے ، بہتر ہے کہ وہ الگ ہو جائیں۔جن لوگوں کا اس تحریک میں حصہ لینے کو جی نہیں چاہتا، ہم ان کو بھی برا سمجھتے ہیں۔لیکن وہ لوگ ان لوگوں سے اچھے ہیں، جنہوں نے وعدہ کیا اور پورا نہ کیا۔کم سے کم وقت پر انہوں نے اس سے ہمیں ہوشیار تو کر دیا۔یہودیوں نے حضرت موسی سے کہا۔فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَعِدُونَ تو حضرت موسی اور حضرت ہارون ہوشیار ہو گئے اور انہوں نے ایک اور سکیم بنالی۔اگر یہودی ان 214