تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 215

اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کے ساتھ ہو جاتے لیکن وقت پر بھاگ جاتے تو بوجہ نبی ہونے کے حضرت موسی اور حضرت ہارون بھاگ تو نہیں سکتے تھے ، لازمی بات تھی کہ وہ کم سے کم مارے جاتے کے خطرہ میں پڑ جاتے۔لیکن جب یہودیوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ نہیں جائیں گے تو انہوں نے ایک نئی سکیم بنائی۔جس سے ان کی جانیں بھی بچ گئیں اور کام بھی ہو گیا۔لیکن اگر قوم انہیں عین وقت پر دھوکہ دیتی تو ان کی جانیں خطرہ میں پڑ جاتیں۔مسلمان جنگ حنین میں اپنی غلطی کی وجہ سے بھاگے اور ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ایک شخص رہ گیا۔یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا، جس نے مدد کی اور آپ کو دشمن کے نرغہ سے بچالیا۔لیکن جہاں تک ظاہری تدبیر کا سوال ہے، اس وقت جو صورت پیدا ہو گئی تھی ، اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت یقینی تھی۔خدا تعالیٰ نے ہی معجزہ دکھلایا۔ورنہ بھاگنے والوں نے تو آپ کو دشمن کے سپر د کر دیا تھا۔اگر وہ ساتھ نہ جاتے تو خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی اور تدبیر بتا دیتا، جس سے آپ کی جان محفوظ رہتی اور طائف بھی فتح ہو جاتا۔آخر مد ینہ بھی تو بغیر لشکروں کے فتح ہوا تھا۔پس تمہارے سامنے دونوں طریق موجود ہیں۔زیادہ صحیح یہی ہے کہ ہر احمدی تحریک جدید میں حصہ لے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔زندگی کو اتنا سادہ بنالے کہ اس پر یہ قربانی دوبھر نہ ہو اور تمام وعدے پہلے تین ، چار ماہ میں ہی ادا ہو جائیں۔دوسرا مقام یہ ہے کہ تم بالکل انکار کر دو کہ ہم اس میں حصہ نہیں لیں گے۔لیکن یہ سب سے خطر ناک ہے کہ تم وعدہ کرو اور وقت کے اندر پورا نہ کرو۔تم پہلے یہ چیز پوری طرح سمجھ لواور پھر کام کرو۔چاہئے کہ تم سب اس میں شامل ہو جاؤ۔اپنی زندگی کو سادہ بناؤ اور وعدے کو وقت کے اندر پورا کرو۔یا تم میں سے ایک حصہ یہ کہہ دے کہ ہم آپ کے ساتھ اسلام کی جنگ میں شریک نہیں ہو سکتے۔لیکن اگر تم وعدہ کرو اور پورا نہ کرو تو یہ منافق کا کام ہے۔تم اس صورت میں خدا تعالیٰ کے سامنے کبھی بھی اپنی برکت نہیں کر سکتے تم خود سمجھ لو کہ ان تینوں فریقوں میں سے تم کون سے فریق میں شامل ہو؟ جب تم وعدہ لکھاتے ہو تو کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے وعدہ لکھوا دیا ہے۔لیکن دل میں یہ کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے غضب کے ماتحت ہم نے وعدہ کو پورانہیں کرنا۔یہ کتنی خطرناک چیز ہے کہ ایک دوست کے سامنے جس کا تم پر کوئی تصرف نہیں ، وہ تمہیں انگلی زندگی میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا تم خوش ہونا چاہتے ہو۔لیکن خدا تعالیٰ کے سامنے تم اپنا منہ کالا کرتے ہو، جس سے تمہارا ہر وقت کا واسطہ ہے۔اس سے بہتر تھا کہ تم ادنی درجہ کے مومن بن جاتے اور منافقوں میں تمہارا شمار نہ ہوتا“۔مطبوعه روزنامه الفضل 18 ستمبر 1951 ء ) | 215