تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 210
اقتباس از تقریر فرموده 02 ستمبر 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کہہ دیتے کہ جاؤ، ہم تمہارے ساتھ مل کر کام نہیں کرتے ؟ جس سے کم سے کم یہ پتہ تو لگ سکتا کہ میرے ساتھ کتنے آدمی ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس سے سویں حصہ سے کام لے لیا تھا۔اگر پہلے دن ہی یہ معلوم ہو جاتا کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے تھوڑے ہیں تو ہم کام کی نوعیت بدل دیتے اور بجائے مرکز قائم کرنے کے ہم خود ہی باہر نکل جاتے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہتے۔لیکن اب شروع سال میں تو انہوں نے وعدے کئے کہ ہم قربانی کریں گے، پیچھے نہیں نہیں گے مگر موقع پر آ کر دھو کہ دے دیا۔اول تو وعدے بھی بعض کے اپنی شان سے کم ہوتے ہیں اور بعد میں عین وقت پر ایسے لوگ بھاگ جاتے ہیں۔اگر وعدہ پورا نہیں کرنا تھا تو پھر وعدہ ہی کیوں کیا تھا؟ انہوں نے کیوں اپنا ایسا ماحول پیدا نہ کر لیا کہ جس سے وعدہ ادا کرنے میں سہولت ہوتی ؟ آج سے پندرہ سال پہلے جب تحریک جدید شروع ہوئی تو اس وقت کے لوگ زیادہ چستی کے ساتھ ادائیگی کرتے تھے۔اس وقت ایک چیڑ اس کی تنخواہ بارہ، تیرہ روپے تھی اور اب چالیس روپے کے قریب ہے۔اگر آج سے دس پندرہ سال قبل وہ تیرہ روپے سے پانچ روپے سالانہ دے سکتا تھا تو وہ آج کیوں پانچ روپے نہیں دے سکتا؟ یہ صرف اس لئے ہے کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے تحریک جدید میں حصہ لینے والا یہ سمجھتا تھا کہ ان پانچ روپے پر میری آئندہ زندگی کا دارو مدار ہے اور وہ شروع سال سے ہی ان کی ادائیگی کی فکر کر لیتا تھا۔اب چالیس روپے تنخواہ والا آدمی بھی بیٹھا رہتا ہے اور خیال کر لیتا ہے کہ اب پانچ روپے میں کون سی جلدی ہے ، جلد ادا کرلوں گا؟ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک کے لئے باہر تشریف لے گئے، اس وقت تین صحابہ سے سنتی ہو گئی تھی اور وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔انہوں نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہمیں کون سی جلدی ہے، روپیہ پاس ہے، جب چاہیں گے، تیاری کر لیں گے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائیں گے؟ وہ اسی طرح کرتے رہے حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت دور نکل گئے اور وہ صحابہ آپ کے ساتھ نہ مل سکے۔اگر تم پہلے دن سے اپنے وعدے کی ادائیگی کی فکر کرتے تو اپریل مئی تک اپنے وعدے ادا کر لیتے۔جو قربانی تم نے اب کمزور بن کر کرنی ہے ، وہ تم نے اعلیٰ مومن بن کر ہی کیوں نہ کر لی ؟ اب تم قربانی بھی کرو گئے اور کمزور کے کمزور بھی رہو گئے۔لیکن اس سے پہلے ہی قربانی کرتے تو تم اعلیٰ مومن کہلاتے۔اور پھر وہ قربانی موجودہ قربانی سے کم ہوتی۔قربانی کا اصل وقت وعدے کے بعد کے پہلے چھ ماہ ہوتے ہیں۔اگر تم 210