تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 198
اقتباس از تقریر فرموده یکم جون 1951ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم پس جب شیطان کے اندر یہ طاقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا مٹانا مشکل ہو جاتا ہے تو کیا نعوذ باللہ الہ تعالیٰ میں ہی یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو زندہ رکھ سکے؟ اس میں طاقت ہے۔مگر اس کے زندہ رہنے کی یہی صورت ہوتی ہے کہ مومن اپنے دل میں یہ ارادہ رکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے کہ اگر مجھے یہاں مارا گیا تو میں وہاں زندہ ہو جاؤں گا، وہاں مارا گیا تو یہاں زندہ ہو جاؤں گا۔جب یہ روح کسی جماعت میں پیدا ہو جاتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔کیونکہ کوئی طاقت ایسی نہیں، جو دنیا میں ہر جگہ پہنچ سکے۔جب خدا تعالیٰ کا نور دنیا کے گوشے گوشے سے پھوٹ پڑنے کو تیار ہو ، جب مومن کا عزم اسے ہر جگہ پہنچنے کے لئے بے قرار کر رہا ہو ، جب موت اس کی نظروں میں ایک حقیر اور ذلیل چیز ہو کر رہ جائے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنا، اسے اپنا سب سے بڑا مقصد دکھائی دے تو شیطان مایوس ہو جاتا ہے اور وہ حیران ہوتا ہے کہ میں اب کہاں جاؤں؟ یہاں جاؤں یا وہاں جاؤں؟ اس کو مٹاؤں یا اس کو مٹاؤں ؟ دنیا کا چپہ چپہ اس روئیدگی کو اگانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اس روئیدگی کو پیدا کر رہی ہیں، وادیاں بھی اس روئیدگی کو پیدا کر رہی ہیں، نشیب بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں ، چٹیل میدان بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں، ریتلے بیابان بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں، دریاؤں کی تہیں بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہی ہیں، شہر بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں، دیہات بھی وہی روئیدگی پیدا کر رہے ہیں، مشرق بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے، مغرب بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے، شمال بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے اور جنوب بھی وہی روئیدگی نکال رہا ہے۔اب شیطان جائے تو کہاں جائے ؟ خدائی طاقتیں اسے حاصل نہیں ہوتیں۔وہ زور لگا تا ہے مگر نور کی وسعت اس کی دوڑ سے بہت آگے نکل جاتی ہے۔اور آخر وہ مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔کیونکہ جہاں بھی روئیدگی شیطانی حملوں سے بچ جاتی ہے، وہیں سے وہ آگے بڑھ کر ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔یہی روح ہے، جس سے قوموں کو فتح کیا جاسکتا ہے۔یہی روح ہے، جو حضرت عیسی نے اپنے حواریوں میں پیدا کرنی چاہی۔یہی روح ہے، جو حضرت سلیمان نے اپنے متبعین میں پیدا کرنی چاہی۔اور یہی روح ہے، جو اسلام دنیا کے ہر فرد میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔جب تک ہمارے مبلغ یہ سوچتے رہیں گے کہ ایک مرکز ہے، جو کام کر رہا ہے، اس وقت انہیں حقیقی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔مرکز ہے اور ضرور ہے۔مگر صرف اشارہ اور راہنمائی کے لئے ہے ،صرف کمزوروں کو سہارا دینے کے لئے ہے۔ورنہ مومن خود اپنی ذات میں مرکز ہوتا ہے اور اس کو کسی بیرونی مرکز کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ جانتا ہے کہ مرکز اس کے لئے نہیں بنایا گیا کہ سارا کام مرکز ہی کرے۔بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ کام میں نے کرنا ہے، مرکز صرف جماعت کے کمزوروں کی نگرانی اور راہنمائی کے لئے ہے۔جب یہ روح لوگوں میں پیدا ہو جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو مٹا نہیں سکتی۔198