تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 191
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم دھو کہ کیسے ہوا؟ اگر یہ دھوکہ ہے تو خدا تعالیٰ کا دورکعت نماز کو چار رکعت کرنا بھی نعوذ باللہ دھوکہ ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک دھیلہ فی سہ ماہی چندہ کو آمد کا 1/10 کرنا بھی نعوذ باللہ دھوکا ہے؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر میر اطریق بھی تمہارے ایمانوں کو قائم رکھنے کے لئے ہے۔پھر یہ دھوکا اس وقت بنتا، جب یہ کام مفید نہ ہوتا یا کام دس سال میں پورا ہو جاتا۔مگر کیا تم اتنے ہی بے وقوف ہو کہ تم سمجھ رہے ہو کہ دنیا دس سال میں فتح ہو جائے گی یاد نیا انیس سال میں فتح ہو جائے گی ؟ تمہیں تو یہ سمجھنا چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ تمہیں قدم بقدم ایمان کی طرف لے جارہا ہے۔دس اور انیس سال کا یہاں سوال نہیں۔کیا تم نے بیعت کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ میں دس سال تک قربانی کروں گا ؟ تمہیں ٹھو کر گئی تھی تو اس بات پر لگنی چاہئے تھی کہ میں نے دس سال یا انہیں سال کیوں کہے ہیں؟ تم پوچھتے ، حضور ! ہم نے قربانی کا وعدہ تو بیعت کرتے وقت موت تک کیا تھا اور آپ دس سال یا انیس سال تک ہمیں لے جا کر چھوڑ رہے ہیں؟ پس دیانتداری کا یہ طریق تھا کہ تم پوچھتے کہ ہمیں 19 سال کے بعد کیوں چھوڑ دیں گے؟ کیا انیس سال بعد نمازیں اور روزے معاف ہو جائیں گے؟ کیا انہیں سال کے بعد تم بیوی بچوں کی پرورش چھوڑ دو گے؟ کیا انیس سال کے بعد تم کھانا کھانا چھوڑ دو گے؟ اگر انیس سال کے بعد تم نمازیں اور روزے چھوڑ نہیں دو گے، اگر انیس سال کے بعد تم بیوی بچوں کی پرورش چھوڑ نہیں دو گے، اگر انیس سال کے بعد تم کھانا کھانا چھوڑ نہیں دو گے تو پھر اسلام کو یہ کہتے ہوئے کیوں چھوڑ دو گے کہ وہ ترقی کرے یا نہ کرے، ہم نے تو انہیں سال چندہ دے دیا ؟ یہ تو پاگلوں والا خیال ہے کہ دس سال سے انیس سال تک تحریک کیوں بڑھا دی گئی ؟ سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ تحر یک انیس سال سے زیادہ کیوں نہیں؟ جب کہ بیعت کرتے وقت ہم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم مرتے دم تک قربانی کرتے رہیں گے۔پس سترھویں سال کی تحریک کا اعلان کر کے میں کہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں یہ مثل مشہور ہے کہ جتنا گڑ ڈالو گے، اتنا ہی شربت میٹھا ہو گا۔تم جتنی قربانی کرو گے، اتنی ہی جلدی اسلام پھیلے گا۔تم اپنی زبان سے کئی بار کہتے ہو کہ ہمیں قادیان کب ملے گا؟ سوال یہ ہے کہ قادیان کو کیا فضیلت ہے؟ کیا قادیان کے لوگ پاخانہ کہ بجائے مشک پھرتے ہیں؟ یا وہاں کے مکانوں کی اینٹیں مٹی کی بجائے ہیرے جواہرات کی بنی ہوئی ہیں؟ قادیان کو اگر کوئی فضیلت حاصل ہے تو وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے اس زمانہ میں اسلام کی اشاعت کا مرکز بنایا ہے۔اگر تمہارے اندر اسلام کی اشاعت کا جوش نہیں، اگر تم قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں تو قادیان تمہاری نظروں میں مزبلہ اور اروڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔اگر تمہیں 191