تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ii of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page ii

بسم الله الرحمان الرحيم پیش لفظ 1934ء کے اختتام پر حضرت مصلح موعود نے القائے الہی کے ماتحت تحریک جدید کا بابرکت آغاز فرمایا۔حضرت مصلح موعود نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر جب اس تحریک کا آغاز فرمایا تو اس کے بعد جیسے جیسے اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرما تارہا، آپ جماعت کو اس عظیم الشان تحریک کے اغراض و مقاصد سے روشناس کرواتے رہے۔آپ نے بے شمار مواقع پر بار بار مختلف پیرایوں میں جماعت سے اس تحریک کی اہمیت ضرورت اور برکات کا ذکر فرمایا اور ان کو اس میں شامل ہونے کی تلقین فرمائی۔مثلاً تحریک جدید کے آغاز اور جماعتی جذبے کا ذکر حضرت مصلح موعود نے یوں فرمایا :۔" جس جوش اور جس جذبہ اور ایثار کے ساتھ جماعت کے دوستوں نے پہلے سال کے اعلان کو قبول کیا تھا اور جس کم مائیگی اور کمزوری کے ساتھ ہم نے یہ کام شروع کیا تھا، وہ دونوں باتیں ایمان کی تاریخ میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہیں۔وہ جذ بہ ، جوش اور ایثار بھی جس کے ساتھ اس کام کو شروع کیا گیا تھا، غیر معمولی اور مومنوں کی شاندار روایات کے مطابق تھا اور وہ بے بسی اور کم مائیگی ، جس کے ساتھ ہم نے یہ کام شروع کیا تھا، وہ بھی مومنوں کی تاریخ کی ایک زندہ مثال تھی۔یعنی تھی تو وہ بے بسی تھی تو وہ بے کسی تھی تو وہ کم مائیگی لیکن وہ اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ مومن ایسے ہی حالات سے گزرا کرتے ہیں۔وہ اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ گزشتہ انبیاء کی جماعتوں کو ایسی مشکلات سے ہی دو چار ہونا پڑا ہے۔پس وہ بے بسی، بے کسی اور کم مائیگی بھی مومنوں کی جماعت سے ہماری جماعت کو ملاتی تھی۔اور وہ جوش اور وہ جذبہ اور ایثار، جو جماعت نے دکھایا، وہ بھی ہمیں مومنوں کی جماعت سے ملاتا تھا۔گویا 34ء کا نومبر ایک نشان تھا ، سلسلہ احمدیہ کے مخالفوں کے لئے۔وہ ایک دلیل اور برہان تھا سو چنے اور غور کرنے والوں کے لئے۔کہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ انہیں قدروں پر چل رہی ہے، جن پر گزشتہ انبیاء کی جماعتیں چلتی چلی آئی ہیں۔(خطبہ جمعہ 25 نومبر 1949ء)