تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 183
یک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 24 نومبر 1950ء قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جائیں کہ جس کے بغیر اسلام اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو حاصل نہیں کر سکتا اور اگر حقیقت یہی ہے تو احمدی وہی کہلا سکتا ہے، جو قربانی کے لئے تیار ہو۔اور اس کے سامنے ہمیشہ یہ بات رہے کہ اس نے ساری دنیا میں اسلام کی عظمت اور شوکت کو قائم کرنا ہے۔اگر یہ مقصد کسی کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے یا اس کی قربانی کمزور پڑ جاتی ہے تو یقیناً جتنی جتنی اس کی قربانی کمزور ہوتی جاتی ہے، اتنا اتنادہ احمدیت سے دور چلا جاتا ہے اور آپ ہی آپ احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے۔جہاں تک گھروں میں بیٹھ کر نماز پڑھنے اور ذکر الہی کرنے کا سوال ہے، ہزاروں ہزار غیر احمدی بھی ایسا کر رہے ہیں۔جو کام وہ نہیں کر رہے اور جس کی حقیقت سے وہ غافل ہیں، وہ یہ ہے کہ قرآن وہ عظمت و شوکت اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کے ذریعہ توپ و تفنگ کے بغیر بھی دنیا کو فتح کیا جاسکتا ہے۔اب غیر احمدیوں میں بھی بیداری اور قربانی کی روح پیدا ہورہی ہے۔لیکن قربانی کی وہ روح انہیں توپ و تفنگ کی طرف لے جاتی ہے، قرآن کریم کی طرف نہیں لے جاتی۔وہ قرآن کریم کو ایسا ہی بے کار سمجھتے ہیں ، جیسا کہ ان سے پہلے ان کا ایک سویا ہوا بھائی سمجھتا تھا۔بے شک آجکل کا ایک مسلمان آج سے سو یا پچاس سال قبل مسلمان کی نسبت بیدار ہے لیکن وہ تو پوں اور تلواروں کی طرف بھاگ رہا ہے، وہ حسرت سے ایٹم بم بنانے والوں کی طرف دیکھ رہا ہے۔اور اس امید میں ہے کہ وہ اسے بھی صدقہ کے طور پر کچھ ہتھیار بخش دیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ تمہاری توپ قرآن ہے، تمہاری رائفل قرآن ہے، تمہاری بندوق قرآن ہے، تمہارا پستول قرآن ہے، قرآن تمہارا وہ ہتھیار ، جس سے تم نے دنیا کا سر کچلنا ہے۔پس تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیں ہو کہ انگلستان تمہیں تو ہیں دے تم فتح کے لئے اس امر کے محتاج نہیں کہ امریکہ تم پر مہربان ہو اور ایک دو ایٹم بم دے، دے یا فرانس اور جرمن تمہیں کیمیاوی چیزیں پیدا کر کے دے۔بلکہ تمہارا کام یہ ہے کہ تم قرآن کریم لو اور دنیا کو فتح کرلو۔حقیقت یہ ہے کہ وہی فرق ، جو عقائد سے تعلق رکھتا ہے، یہاں بھی چلتا ہے۔غیر احمدی دین کے بارہ میں بھی اس امید میں ہیں کہ موسوی سلسلہ کا مسیح اسلام کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو باہر نکالے گا اور سیاسی اور تمدنی طور پر اسلام کے غلبہ کے لئے بھی غیر احمدی مغرب کی تو پوں اور گولہ بارود کی فکر میں ہیں۔لیکن احمدیت کہتی ہے، نہ تو مذہبی طور پر اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے موسوی سلسلہ کے مسیح (علیہ السلام) کی ضرورت ہے اور نہ اسلام کو سیاسی اور تمدنی طور پر دنیا پر غالب کرنے کے لئے یورپ اور امریکہ سے ملے ہوئے گولہ بارود کی ضرورت ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھیجا ہوا ، جرنیل ہی اسلام کو 183