تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 182

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 نومبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم سے دنیا میں بھیجے گئے تھے اور قرآن کریم خدا تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے اور قیامت تک قائم رہنے والی کتاب ہے تو پھر یہ تیسرا نتیجہ بھی ضروری ہے کہ یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ دنیا کی طاقتیں اور قوتیں، خواہ وہ سیاسی ہوں ، تمدنی ہوں علمی ہوں یا کسی قسم کی بھی ہوں منفر دانہ طور پر یا مشترک طور پر الگ الگ وقتوں میں یا ایک ہی وقت میں مختلف سکیموں کے ماتحت یا ایک ہی سکیم کے ماتحت ، اچانک یا کسی سوچی سمجھی ہوئی تدبیر کے مطابق، اگر حملہ کریں گی تو وہ نا کام نامرادر ہیں گی اور احمد بیت ہی غالب آئے گی لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ احمدی اپنے فرائض کو ادا کریں اور وہ اپنے مقصد کو اپنے سامنے ہمیشہ زندہ رکھیں۔جہاں تک مقصد کا سوال ہے، احمدیت کا وہی مقصد ہے، جو اسلام کا تھا۔اور وہ میں نے بتایا ہے دین الہی کا دنیا پر غالب کرنا۔اس مقصد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایجاد نہیں کیا، اس کو صرف دہرایا ہے یا یاد دلایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مقصد کو دنیا کے سامنے نئے سرے سے پیش نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے نئے سرے سے قائم کرنے کے لیے آپ کو کھڑا کیا ہے۔پس جہاں تک مقصد کا سوال ہے، ہر بیدار اور دیانتدار غیر احمدی بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔پھر ایک احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ احمدی اور غیر احمدی میں یہی فرق ہے کہ ایک غیر احمدی اس مقصد کو اپنے سامنے نہیں رکھتا ، عام غیر احمدی اس مقصد کو بھول گئے ہیں۔لیکن دیانتدار غیر احمدی اسے تسلیم تو کرتے ہیں لیکن اسے پورا کرنے کے لئے مشتر کا نہ اور متحدانہ جد و جہد کے لئے تیار نہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک ایسی جماعت قائم کی ہے، جو اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے مشتر کا نہ اور متحدانہ جد و جہد کا اقرار کرتی ہے۔حقیقتا اگر دیکھا جائے تو یہ ایک فرق ہے، جو غیر احمدی اور احمدی میں پایا جاتا ہے۔باقی سب باتیں اس کے تابع ہیں۔اگر نئے الہام کی ضرورت پیش آئی، اگر نئی وحی کی ضرورت پیش آئی تو اسی لئے کہ تا اس اقرار کے اندر زور پیدا کیا جائے اس کے اندر پختگی پیدا کی جائے اور جو اس مقصد کو پورا کرنے والے ہیں ، خدا تعالیٰ ان کے ایمانوں کو ایسا مضبوط کر دے کہ وہ سب کچھ اس کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔اگر غور کیا جائے تو مسیحیت، مہدویت، الہام جدید اور وحی الہی ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوئی ، وہ معجزات اور نشانات ، جو آپ نے دکھائے ، وہ سب اس کے تابع ہیں۔وہ نشانات اور وحی اس مقصد کو دہرانے کے لئے ہیں۔پس احمدیت کوئی نئی چیز پیش کرنے کے لئے نہیں آئی۔وہ اس لئے آئی ہے کہ تا زندہ خدا کو لوگوں کے سامنے کھڑا کرے۔اور اسے دیکھ کر ان کے اندر عزیمت، ہمت اور ولولہ پیدا ہو جائے اور وہ 182