تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 176

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 ستمبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اگر خدا تعالی کی بات ٹل جائے تو اس کی خدائی ہی باطل ہو جائے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کی باتوں میں فرق یہی ہوتا ہے کہ بندہ بعض دفعہ پورے سامانوں کے ساتھ اٹھتا ہے اور نا کام ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ جس بات کا فیصلہ کرلے، اس کے پورا ہونے میں کوئی چیز روک نہیں بن سکتی۔آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی ، اگر آپ اس کام میں حصہ لے کر آنے والی کامیابی کو قریب کر دیں اور خدا تعالیٰ کی بات کو پورا کر کے اس کا ہتھیار بن جائیں۔کیونکہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن جاتا ہے، وہ بابرکت ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ میں تجھے بہت برکت دوں گا۔یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑے آپ کے جسم سے چھو کر بابرکت ہو گئے تو یہ سمجھ لو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے ہتھیار بن جاؤ گے تو تم میں کتنی برکت پیدا ہو جائے گی ؟ یقیناً اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم کے ساتھ چھو جانے کی ال وجہ سے آپ کے کپڑوں کو برکت حاصل ہوگئی تو وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا ہتھیار بن کر خود اس کے ہاتھ میں آ جائے گا، وہ ان کپڑوں سے بہت زیادہ با برکت ہوگا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو بھی اگر برکت دی تو خدا نے دی اور آپ کے کپڑوں کو بھی اگر برکت دی تو خدا نے دی۔پس یقیناً وہ ان برکتوں کا وارث ہوگا ، جو دنیا کی بڑی سے بڑی حکومتوں اور طاقتوں میں بھی نہیں پائی جاتیں۔مطبوع روزنامه الفضل 29 ستمبر (1950ء) 176