تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 172

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 ستمبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم پر کہہ دینا چاہیے کہ اگر آپ لوگ احمدیت کو سمجھ چکے ہیں تو اب آپ کو اس میں داخل ہو جانا چاہئے۔ورنہ ہمارے نزدیک آپ خود بھی دھوکہ میں مبتلا ہیں اور ہمیں بھی دھوکا میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ہمارے بعض دوست اتنے بھولے بھالے ہوتے ہیں کہ وہ سالہا سال اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ لوگ ان کی تبلیغ سے احمدیت کے قریب آرہے ہیں۔حالانکہ قریب آنے والے کو کبھی تو منزل پر پہنچنا چاہئے۔اگر وہ نہیں پہنچتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جسے قریب سمجھا جاتا تھا، وہ محض نظر کا دھوکا تھا۔پس قریب آنے والا تم اس کو مجھو، جو واقعہ میں قریب آجائے اور احمدیت کو قبول کرلے۔اگر وہ احمدیت کو تو قبول نہیں کرتا مگر کہتا یہ ہے کہ میں احمدیت کے قریب ہوں تو وہ خود بھی دھو کہ میں مبتلا ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی دھوکا میں مبتلا کرتا ہے۔مجھے یاد ہے، میں ایک دفعہ شملہ گیا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے مجھے کہا کہ " حقيقة الوحی“ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض شرائط کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ جن لوگوں میں یہ شرائط پائی جائیں گی، ہم انہیں مسلمان سمجھیں گے۔کیا آپ ان شرائط کو اب بھی درست سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ لکھا ہے، ہم اسے بالکل درست سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شرط یہ قرار دی ہے کہ ایسا شخص آپ کو اپنے تمام دعاوی میں سچا سمجھتا ہو۔دوسری شرط آپ نے یہ لکھی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تازہ وحی پر ایمان رکھتا ہو۔تیسری شرط آپ کو نے یہ رکھی ہے کہ اس کے اندر منافقت کا ایک شائبہ تک نہ پایا جاتا ہو۔اگر یہ تینوں شرطیں کسی شخص میں پانی جائیں تو ہم یقیناً سمجھیں گے کہ وہ مسلمان ہے۔میں نے اس سے کہا کہ بتاؤ کہ کیا کوئی غیر احمدی ہے، جو ان شرائط کا پابند ہو ؟ وہ کہنے لگا، میرا ایک غیر احمدی دوست ہے، اس میں یہ سب باتیں پائی جاتی ہیں۔میں نے کہا اس سے جا کر پوچھو کہ کیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تمام دعاوی میں سچا سمجھتے ہو؟ اگر وہ کہے ہاں تو پھر اس سے کہنا کہ کیا تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تازہ وحی پر ایمان رکھتے ہو؟ اگر وہ کہے ایمان رکھتا ہوں تو پھر تیسر اسوال اس سے یہ کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جو تازہ وجی ہوئی ہے، اس میں ایک یہ بھی شامل ہے کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لاتا اور میری بیعت میں شامل نہیں ہوتا ، وہ کاٹا جائے گا۔بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔اگر تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تازہ وحی پر ایمان رکھتے ہو تو بیعت میں کیوں شامل نہیں ہوتے؟ اس کے بعد لازماً یا تو وہ احمد کی ہو جائے گا اور یا پھر ماننا پڑے گا کہ اس میں منافقت پائی جاتی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب انہوں نے اس رنگ میں اس غیر احمدی کے سامنے بات پیش کی تو وہ کہنے لگا تم نے مجھے بیعت کے لئے پہلے بھی کہا ہی نہیں۔لو، میں آج ہی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں۔172