تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 170

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 ستمبر 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم پ چندے نہ دیں اور میں کیمیا گری سے اس کمی کو پورا کر لیا کروں۔روپیہ، بہر حال جیسے آدم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ تک اللہ تعالیٰ کی سنت چلی آئی ہے، جماعت کو ہی مہیا کرنا پڑے گا اور جماعت کے دوستوں کو ہی یہ بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔نہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کیمیا گری کر کے روپیہ بنایا ، نہ حضرت عیسی نے ایسا کیا، نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا کیا اور نہ کسی اور نبی نے ایسا کیا۔میں بھی ان کی سنت اور طریق پر کیمیا گری سے یہ روپیہ پیدا نہیں کر سکتا۔بہر حال جماعت کو ہی یہ چندہ دینا پڑے گا اور ان کے ایمان کی آزمائش کے بعد ہی یہ کام چل سکے گا۔اگر جماعت کے ایک حصہ کو، جو وعدہ تو کرتا ہے مگر اس کے ایفاء کی طرف توجہ نہیں کرتا ، ہمیں الگ کرنا پڑے تو ہم اس کے نکالنے میں ذرا بھر بھی پرواہ نہیں کریں گے۔بلکہ میرے نزدیک تو آدھی یا 3/4 جماعت بھی اگر الگ کر دی جائے تو ہمیں اس کے الگ کرنے میں کوئی گھبراہٹ نہیں ہو سکتی۔میں نے ایک وسیع تجربہ کہ بعد اور کلام الہی کا عمیق مطالعہ کرنے کے بعد اس حقیقت کو پالیا ہے کہ خدائی سلسلوں میں افراد کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ،صرف اخلاص کی قیمت ہوتی ہے۔اگر جماعت کا کچھ حصہ کٹ جائے یا کاٹنا پڑے تو اس سے جماعت کو ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا بلکہ پھر بھی وہ آگے ہی اپنا قدم بڑھائے گی۔مگر یہ بھی ایک وسیع مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آدمیوں سے ہی کام لیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر سو میں سے پچاس آدمی رہ جائیں تو خدائی جماعت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ کامیابی اور فتح کے لئے یہ ضروری ہے کہ پچاس کو سو بنایا جائے ،سو کو ہزار بنایا جائے ، ہزار کو لاکھ بنایا جائے اور لاکھ کو کروڑ بنایا جائے۔آدمیوں پر خدائی سلسلوں کا انحصار نہیں ہوتا مگر فتح کے لئے آدمیوں کی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔اور اکثریت پیدا کرنے سے غافل رہنا، نادانی اور جہالت کا کام ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کہا کہ مجھے آدمیوں کی ضرورت نہیں۔اگر میں کہتا ہو کہ مجھے آدمیوں کی ضرورت نہیں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ ہمیں آدمی بڑھانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے صرف اتنے معنی ہیں کہ جماعت کا قیام اور اس کی ترقی آدمیوں پر مخصر نہیں۔اگر کسی وقت کمزور عصر کو الگ کر دیا جاتا ہے تو جماعت کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ورنہ کوشش ہم بھی یہی کرتے ہیں کہ ہم سو سے ہزار بہنیں اور ہزار سے دس ہزار نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ اکثریت بنا کر اپنے سلسلہ کو غلبہ دیا کرتا ہے۔یہ صرف جبری طاقتوں کا طریق ہوتا ہے کہ وہ اقلیت میں ہوتے ہوئے ، اکثریت پر حکومت کرنے لگ جاتی ہیں۔جیسے بالشوازم ہے یا یسی ازم ہے یا فائسزم ہے، ان کو جب اتنی طاقت 170