تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 166

اقتباس از خلاصه خطبه نکاح فرموده 05 اگست 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد سوم مراکز بنانے پڑیں۔در حقیقت جماعت کے افراد کا مختلف ممالک میں پھیل جانے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اگر ایک جگہ پر دشمن اسے کلی طور پر کچل ڈالے تو دوسرے ممالک کے لوگ کام کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔پس مختلف مراکز اور ملکوں میں جتنی بھی احمدیت پھیلے اور جتنی بھی وہاں کے رہنے والوں سے اپنے تعلقات وسیع کیے جائیں، اتنا ہی ہمارے لئے مفید ہو گا۔عرب قوم نے اس نکتہ کو سمجھا، انہوں نے اپنی لڑکیاں دوسری قوموں میں بیاہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی اور ایسا طریق اختیار کیا کہ باہر سے آنے والا اپنے آپ کو غیر ملکی اور اجنبی خیال نہیں کرتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ ساری دنیا میں پھیل گئے۔۔اگر مختلف ممالک میں ہماری لڑکیاں چلی جائیں تو کسی مصیبت کے آنے پر اگر ہماری جماعت کے افرادان ملکوں میں جانے پر مجبور ہوں گے تو وطنی تعلق کی وجہ سے ہمیں وہاں جتھہ بنانے اور پھیل جانے میں سہولت حاصل ہوگی اور ہم آسانی کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھ سکیں گے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 10 اگست 1950 ء ) 166