تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 163

اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 23 جون 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سو کے وقت میں بھی ایسا ہوا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا اور اب بھی ایسا ہی ہوگا۔یہ کبھی نہیں ہو گا کہ خدا تعالی لاکھ، دولاکھ افراد کو دنیا پر غالب کر دے۔وہ پہلے لاکھ، دولاکھ کو دس ہیں کروڑ بنائے گا اور پھر انہیں غلبہ بخشے گا۔اور یا اگر ہمیں خدا تعالیٰ نے فردی طور پر ترقی دی تو پھر کسی ایسے ملک میں، جس کی آبادی پانچ ، چھ لاکھ کی ہو، دو، تین لاکھ آدمی اس جماعت میں داخل کرے گا اور اس جگہ پر احمدیت کو غلبہ عطا کرے گا۔اور پھر ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے ملک پر غلبہ عطا کرتا جائے گا۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ افراد میں کثرت کے بغیر کسی جماعت کو پہلا غلبہ عطا کرے۔اگر ہمارے پاس افراد کی زیادتی نہیں تو ہم دنیا میں صحیح جمہوریت کو قائم نہیں کر سکتے۔اسلام جبر کو جائز نہیں سمجھتا۔اگر ہم تھوڑی تعداد کے ذریعہ دنیا میں حکومت کو قائم کریں گے اور اسلامی نظام کو دنیا پر جاری کریں گے تو یہ ظلم ہوگا۔اور اسلام ظلم کی اجازت نہیں دیتا۔اور اسلام کی بناوٹ ہی اس قسم کی ہے کہ وہ صحیح جمہوریت کو قائم کرتا ہے۔پس غلبہ حاصل کرنے کا قاعدہ یہی ہے کہ پہلے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں اکثریت بنائی جائے اور غلبہ حاصل کیا جائے۔اور اس کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے ملک پر غلبہ حاصل کیا جائے۔ہمارا پیج پھینکنے کا زمانہ بہت لمبا ہو گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں بیچ پھینکنے میں نہایت شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ایک چھوٹی سی جماعت ہونے کے باوجود اس کے افراد کا ہندوستان، چین، ملایا، انڈونیشیا، آسٹریلیا کے قریب کے جزائر ، عراق، افغانستان، ایران ، شرق، اردن، شام، فلسطین، لبنان، مصر، سعودی عرب، ایسے سینا، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ ، پین ، فرانس، جرمنی، اٹلی، انگلینڈ، ویسٹ افریقہ ایسٹ افریقہ، یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ اور کئی اور ممالک میں، جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں ، ایک ایک، دو دویا دس ہیں یا سو، دوسو یا ہزار ، دو ہزار اور بعض جگہوں میں پچاس پچاس ہزار کی تعداد میں پایا جانا، ایسی فتح ہے ، جو دوسروں کو نصیب نہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے، یہ استحکام دین کا ثبوت نہیں۔ہاں ، خدا تعالیٰ نے اسے استحکام دین کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے۔اور استحکام دین کا ذریعہ اور اس کا حکم ہونا ، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔جیسے کسی کے ہاں بچہ پیدا ہونے سے اس کی نسل کے قیام کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔لیکن کیا اس سے اس کی نسل قائم بھی ہو جاتی ہے؟ نہیں بلکہ پہلے وہ بچہ زندہ رہتا ہے اور اتنی لمبی زندگی پاتا ہے کہ وہ بالغ ہوتا ہے اور شادی کے قابل ہوتا ہے، پھر اس کے لئے بیوی کی تلاش کی جاتی ہے، دونوں میاں بیوی آپس میں ملتے ہیں اور ان کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے ، تب ہم کہتے ہیں کہ فلاں کی نسل قائم ہوگئی۔اسی طرح ہماری جماعت کے افراد کا ہر ملک میں پھیل جانا ، استحکام دین کا ایک ذریعہ تو بن گیا۔163