تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 162

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 جون 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم جائے گا تو پھر اگر کوئی شخص احمدیوں کے خلاف ان کے کان بھرنے کی کوشش کرے گا تو وہ فورا کہہ دیں گے کہ ہم جانتے ہیں کہ احمدی ایسے نہیں ہیں۔لیکن اگر وہ احمدیت کی تعلیم سے واقف نہیں تو جس طرح کوئی ان کے کان بھرے گا، ان کے پیچھے لگ جائیں گے۔گویا تبلیغ کے ذریعہ ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے۔اول، جو لوگ صداقت کو قبول کرنے کی جرات رکھتے ہیں، وہ صداقت کو قبول کر لیں گے۔اور جو صداقت کو قبول کرنے کی جرات نہیں رکھتے ، وہ ہمارے حالات سے واقفیت کی بناء پر کلمہ خیر کہا کریں گے۔۔۔۔دعاؤں سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ ہے شک رحیم اور رحمان ہے مگر اس کے سامنے جھکنے اور آہ وزاری کرنے سے جو اس کی مدد کا احساس ہوتا ہے، وہ ویسے نہیں ہوتا۔ویسے تو وہ دلوں کی باتوں کو جانتا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے خود ہی یہ قانون بنارکھا ہے کہ جو چیز دل میں ہوتی ہے، اس کا ظاہر میں بھی ہونا ضروری ہے۔اور جب خدا تعالی کا یہ قانون موجود ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو چیز دل میں ہوگی ، وہ ظاہر میں بھی ہوگی۔" دعاؤں کی طرف توجہ کرنے سے صحیح قربانی کا احساس ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جتنا بڑا کام ہمارے سپرد ہے، اس کے مقابلہ میں ہماری قربانی بیچ ہے۔دنیا بھر میں جماعتیں قائم کرنا، اپنے ملک کے لوگوں کو احمدیت کی طرف متوجہ کرنا ، بہت بڑا کام ہے۔اور اس کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔مگر اس کے مقابلہ میں ہماری قربانیاں کچھ بھی نہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو لوگ تبلیغ کرتے ہی نہیں اور جو تبلیغ کرتے ہیں، وہ مجنونانہ رنگ میں نہیں کرتے۔یہی علاقہ جس کے متعلق میں نے کہا تھا کہ بہت چھوٹا سا ہے، اگر تم کوشش کرو تبلیغ کرو اور ہمدردی کے جذبات لے کر لوگوں کے پاس جاؤ تو یہ سارا علاقہ احمدی ہو سکتا ہے۔اس بات پر تین سال گزر گئے ہیں لیکن اس کام کو کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی۔واقعہ یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد میں احساس نہیں کہ وہ اپنا رستہ چھوڑ کر تبلیغ کر۔سے لوگ صرف سلام کہنے کو ہی تبلیغ سمجھ لیتے ہیں۔کسی کو سلام کہ دیا اور کہہ دیا کہ ہماری فلاں میٹنگ میں تشریف لانا اور اس نے وعدہ کر لیا تو خوشی سے گھر چلے گئے اور سمجھ لیا کہ ہم نے بڑی تبلیغ کی ہے۔یا کسی سے چند باتیں کیں اور اس نے ہاں میں ہاں ملا دی تو سمجھ لیا کہ لوگ احمدیت کی طرف توجہ کر رہے ہیں۔لیکن یہ تبلیغ نہیں تبلیغ یہ ہے کہ حق کو دوسروں پر کھولا جائے اور انہیں دعوت دی جائے کہ وہ اس کو قبول کریں۔یہ امر ظاہر ہے کہ جب بھی کبھی کسی مامور کی جماعت کو خدا تعالیٰ غلبہ دیا کرتا ہے تو پہلے وہ افراد پیدا کیا کرتا ہے، پھر غلبہ دیا کرتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہوا، حضرت عیسی علیہ السلام " 162