تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 153
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم گردنیں بھی جھک جاتی ہیں۔اور " الفتح " نے بھی یہی لکھا ہے کہ بادشاہوں نے بھی وہ کام نہیں کیا، جو اس مٹھی بھر غریب جماعت نے کیا ہے۔غرض تم فخر کے وہ دروازے بند کرتے ہو، جن کے اقرار سے شدید سے شدید ترین دشمن بھی نہیں رکتا۔تم یہ کہو گے کہ ہم پر بوجھ زیادہ ہے، دوسری جماعتیں یہ بوجھ نہیں اٹھاتیں، یہ بوجھ ہماری کمریں توڑنے والا ہے، میں اس کا انکار نہیں کروں گا۔میں کہوں گا بے شک تم پر بوجھ زیادہ ہے لیکن تم یہ بتاؤ کہ خدا تعالیٰ کے پاس بیٹھے اور اس بوجھ کے اٹھانے میں کوئی نسبت بھی ہے؟ اگر تمہیں روحانیت کی آنکھیں نصیب ہو جائیں اور موت کے بعد کا نظارہ تم دیکھ سکو کہ کس طرح خدا تعالٰی کے پاس بیٹھے ہو اور دوسرے مومن جنت میں شربت اور دودھ پی رہے ہیں تو تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ دودھ ان کے حلق سے نہیں گزرتا ، وہ شربت ان کے منہ میں کڑوا لگ رہا ہے اور حسرت سے وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں کہ کاش وہ تمہاری جگہ پر ہوتے اور تم ان کی جگہ پر ہوتے۔پس تم یہ نہ دیکھو کہ یہ قربانی کتنی بھاری ہے بلکہ یہ دیکھو کہ تمہیں جو انعام ملے گا، وہ کتنا بھاری ہے“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 28 مئی 1950۔153