تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 148
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم ہال وغیرہ کا کرایہ ہوگا۔لیکن اس وقت ہم یہ اخراجات اسے نہیں دیتے اور وہ ایک جگہ پر بیٹھارہتا ہے۔ور نہ ایک آدمی ایک شہر سے زیادہ کام ہر ملک میں کر سکتا ہے۔چونکہ ابھی جماعتیں بہت کم ہیں، اس لئے تربیت کی ضرورت کم ہے اور مبلغ بڑی آسانی کے ساتھ دورے کر کے تقریروں کے ذریعہ اکثر ملک کو احمدیت سے روشناس کر سکتا ہے۔پس یہ درست ہے کہ ہم کام کرتے ہیں مگر اتنی قلیل رقم میں کام خراب قسم کا ہورہا ہے اور اس کام کی خرابی کا تبلیغ پر بھی اثر پڑتا ہے اور نتائج اتنے شاندار نہیں نکلتے ، جتنے شاندار نکلنے چاہئیں۔پھر کام کے بڑھانے کا جو احساس ہے، وہ بالکل پیدا نہیں ہوتا۔جب انسان یہ سمجھتا ہو کہ موجودہ کام کو چلانے کے لئے بھی میں پورا خرچ نہیں دے سکتا تو اسے کام بڑھانے کا احساس کیسے ہوسکتا ہے؟ میں اگر یہاں ان جماعتوں کا ذکر نہ کروں ، جنہوں نے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کیا ہے تو یہ ان کی حق تلفی ہوگی۔بعض جماعتوں کو میں نے کہا ہے کہ وہ اپنا خرچ خود اٹھائیں پاکستان نے 50 سال تک نہ صرف خودا اپنا فرض ادا کیا ہے بلکہ لاکھوں لاکھ روپیہ بیرونی تبلیغ پر بھی خرچ کیا ہے۔یہ بوجھ صرف پاکستان پر ہی نہیں پڑنا چاہئے بلکہ بیرونی جماعتوں کو بھی اس بوجھ کے اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔کم از کم یہ تو ہونا چاہئے کہ جو مبلغ بیرونی جماعتوں میں جاتے ہیں، وہ جماعتیں ان کا اور ان کے بیوی بچوں کا خرچ برداشت کریں تاہم اس خرچ سے دوسری جگہ مبلغ بھیج سکیں۔اس لحاظ سے صرف تین ممالک ہیں، جنہوں نے اپنے فرض کو ادا کیا ہے۔اور وہ ایسٹ افریقہ، ویسٹ افریقہ اور امریکہ ہیں۔امریکہ کے بہت تھوڑے احمدیوں کا تیں، پینتیس ہزار چندہ ہوتا ہے اور وہ بہت سا بوجھ خود اٹھاتے ہیں۔اور اگر چہ وہ اپنا سارا بوجھ نہیں اٹھاتے لیکن پھر بھی ان کی قربانی میں کوئی شبہ نہیں۔ایسٹ افریقہ کی جماعت نہ صرف اپنے مبلغین اور ان کے بیوی بچوں کے اخراجات برداشت کرتی ہے بلکہ کچھ رقم بطور چندہ مرکز میں بھی بھیجتی ہے۔مالی قربانی کی تعداد کے لحاظ سے ایسٹ افریقہ سب بیرونی جماعتوں سے فائق ہے۔ویسٹ افریقہ والے مبلغین کے سارے اخراجات ادا کرتے ہیں اور ان کے بیوی بچوں کے اخراجات میں سے بھی ایک حصہ دیتے ہیں۔پس ایسٹ افریقہ کے بعد ویسٹ افریقہ نے فرض شناسی میں بہت حصہ لیا ہے۔ان کے علاوہ دوسری جماعتیں ایک ادنی حصہ چندہ کا دے دیتی ہیں یا کچھ بھی نہیں دیتیں اور امید رکھتی ہیں کہ ہم ان کے ملک پر زیادہ سے زیادہ خرچ کرتے رہیں۔وہ نہیں جانتیں کہ جو چیز موجود ہوتی ہے ، وہی خرچ ہوتی ہے۔پاکستان کی محدود جماعت سارا خرچ برداشت نہیں کر سکتی۔اگر بیرونی جماعتیں اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتیں تو وہ اپنے لئے خود قبر کھودتی ہیں۔سارا خرچ پاکستان کے ذمہ ڈال دینا عقل کے خلاف ہے۔148