تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 147

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد سوم اقتباس عملہ کی تنخواہوں سے تین گنے ہو۔اس حساب سے اگر ہم صحیح طور تبلی از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 10 تو باہر کے مبلغین اور ان کے قائمقام مبلغین ، جو یہاں تیار ہو رہے ہیں اور ان پر جو سائر اخراجات ہوئے ہیں ،موجودہ حالت میں ان کی اوسط چالیس ہزار روپے ماہوار ہو جاتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لئے ہمیں کم از کم چار لاکھ 80 ہزار روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔اور اگر انتظامی عملہ کو اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ کم از کم چھ لاکھ روپیہ سالانہ کا خرچ ہو جاتا ہے۔لیکن جیسا کہ پچھلی تحریک کے موقع پر میں نے جماعت کو توجہ دلائی تھی پہلے دور کے وعدے دولاکھ ستر ہزار روپیہ کے قریب ہوئے ہیں اور دوسرے دور کے وعدے ایک لاکھ ، دس ہزار روپیہ کے قریب ہوئے ہیں۔اس سال بڑی تحریک کے بعد دوسرے دور کے وعدے ایک لاکھ تمہیں ہزار تک پہنچے ہیں اور دفتر اول کے وعدے وہی دو لاکھ ، 70-80 ہزار کے درمیان ہیں۔صدر انجمن احمدیہ کے ذمہ میں نے یہ ڈالا ہے کہ جو اخراجات وہ بیرونی تبلیغ پر خرچ کر رہے تھے یا جو کارکن انہوں نے تحریک جدید سے مانگ کر لئے ہیں، ان کی تنخواہیں وہ تحریک جدید کو دیا کریں اور تحریک جدید انہیں اپنے پاس سے الاؤنس دیا کرے۔اس طرح ایک لاکھ ، چالیس ہزار کی رقم تحریک جدید کو ملتی ہے۔یعنی یہ رقم ناظروں ، نائب ناظروں بنکر کوں، پروفیسروں، استادوں اور دیگر کارکنوں کے بدلہ میں صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید کو دیتی ہے۔یہ ساری رقم پانچ لاکھ ، چالیس ہزار روپیہ بن جاتی ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اگر صحیح طور پر ہم خرچ کریں تو ہمیں چھ لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہے۔میں نے اس رقم میں صدر انجمن احمدیہ میں کام کرنے والے واقفین کے اخراجات کو شامل نہیں کیا۔اس لئے ان کے بدلہ میں جور تم تحریک جدید کوملتی ہے، وہ بھی اس میں شامل نہیں کرنی چاہئے۔اس آمد کو اگر الگ کر لیں تو ہمیں صرف چارلاکھ روپیہ کی آمد ہوتی ہے اور خرچ کے لئے ہمیں چھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ دفتر دوم اس وقت تک کام کرنا شروع کرے گا، جب دفتر اول والے اپنا کام ختم کر لیں گے۔اس لئے دفتر دوم کی آمد بھی اس میں سے نکال لینا چاہئے۔اس طرح در حقیقت ہماری آمد پونے تین لاکھ ہے اور خرچ کم از کم چھ لاکھ کا ہے۔یہ صاف بات ہے کہ ہم چھ لاکھ روپیہ خرچ نہیں کرتے۔جب ہمیں چھ لاکھ روپیہ وصول ہی نہیں ہوتا تو خرچ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔لیکن جہاں یہ درست ہے کہ ہم چھ لاکھ روپیہ خرچ نہیں کرتے ، وہاں یہ بھی درست ہے کہ ہم اتنے اخراجات میں خراب قسم کا کام کرتے ہیں۔مثلاً اگر ہم ایک مبلغ کو زیادہ سائر اخراجات دیں اور وہ دورے کر کے تقریریں کرتا رہے تو لازمی بات ہے کہ تین، چار سو کا خرچ بڑھ جائے گا، آنے جانے کا کرایہ ہو گا ، خوراک کا خرچ ہو گا ، 147