تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 146
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 05 مئی 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم بلانے کا سوال آتا تھا تو جیسا کہ میں نے پہلے خطبہ میں بتایا تھا، صدرانجمن حد یہ بعض دفعہ مڈل پاس لوگوں کے نام پیش کر دیتی تھی۔اس وقت تمہیں کے قریب علماء اور ہیں، جو یہاں تیاری کر رہے ہیں۔ریز رو فوج کے طور پر کچھ لوگ ان کے علاوہ بھی ہیں۔تین سکول میں بطور ٹیچر کام کر رہے ہیں ، آٹھ کے قریب کالج میں پروفیسر ہیں ، 9-8 کے قریب ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں کام کر رہے ہیں، ان لوگوں کو اعلی تعلیمیں دلوا کر ان کاموں پر لگایا گیا ہے۔حسب ضرورت یہ لوگ تبلیغ کا کام بھی دے سکتے ہیں اور مختلف مقامات پر ان کے ذریعہ کالج بھی کھولے جا سکتے ہیں۔مثلاً پہلا کالج ، جو ویسٹ افریقہ میں کھولا گیا ہے، اس کے لئے تحریک جدید نے ایک واقف زندگی انگلینڈ بھیجا اور تین سال تک تعلیم دلوا کر پی۔ایچ۔ڈی کروایا اور اب اسے وہاں پر پرنسپل مقرر کیا گیا ہے۔یہاں سے ایک بی۔اے۔بی۔ٹی ان کے نائب کے طور پر گئے ہیں۔اس قسم کے جب اور کالج قائم ہو گئے تو مسلمان، جن کے پاس اور کوئی کالج نہیں ، ہمارے ہی کالجوں میں تعلیم حاصل کریں گے۔اور لازمی بات ہے کہ وہ احمدی ہو جائیں گے۔اور جو احمد ہی نہ ہوں گے، وہ بوجہ اس کے کہ انہوں نے احمدی اساتذہ سے تعلیم حاصل کی ہوگی، احمدیت سے متاثر ہوں گے اور جہاں کہیں بھی کوئی ایسا سوال پیش آئے گا، احمدیت سے ہمدردی کا اظہار کریں گے۔ہمارا یہ پہلا تجربہ ہے اور ارادہ ہے کہ اس کے علاوہ ایسٹ افریقہ، ملایا اور انڈونیشیا میں بھی کالج کھولے جائیں تا آئندہ تعلیم یافتہ ان طبقہ احمدی علماء کا مرہون منت ہو۔یہ ریز رو فورس اگر ملالی جائے تو 60-70 کے قریب اور آدمی ہمارے پاس موجود ہیں اور وقت پر کام دے سکتے ہیں۔پھر اگر وہ آدمی بھی ملالئے جائیں، جو تنظیم کے لئے دفاتر میں لگائے گئے ہیں اور علماء، جو مبلغ تیار کرنے پر لگائے گئے ہیں تو سو ہوا سو آدمی یہ بھی ہو جاتا ہے ، جن کو دفاتر سے نکال کر تبلیغ کے کام میں لگایا جاسکتا ہے۔اور اگر ان طالب علموں کو بھی ملا لیا جائے ، جن کو وظیفے دے کر تحریک جدید تعلیم دلوا رہی ہے تو وہ بھی چالیس، پچاس کے قریب ہوں گے۔جامعہ احمدیہ کے طلباء ان کے علاوہ ہیں۔گویا 15 سال میں 30 گنا زیادہ ترقی ہو چکی ہے اور اگر صحیح طور پر تنظیم کی جائے تو آئندہ چند سال میں شاید پچاس، ساٹھ گنے سے بھی زیادہ ہو جائیں۔ہمارے ملک میں ایک گریجوایٹ یا اس کے قائمقام کی اوسط تنخواہ سو سے دوسور و پیہ ماہوار کے درمیان ہے اور غیر ممالک میں اس سے بہت زیادہ ہے۔اور پھر جو سائر خرچ ہوا کرتا ہے، وہ اتنا ہی اور اوپر لگ جاتا ہے۔ہمارا کام چونکہ تبلیغی ہے، مبلغ کا آنا جانا، جلسے کرنا، اشتہار اور مختلف ٹریکٹ شائع کرنا اور اس طرح کے اور بہت سے اخراجات ہمیں کرنے پڑتے ہیں۔اس کام میں سائر تبھی مفید ہوسکتا ہے، جب 146