تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 143

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 اپریل 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم کر دے گا“ کے یہ معنی ہیں کہ اس میں جماعت احمدیہ کا کام بنایا گیا ہے۔تمہی نے اس کے نمائندے بن کر اس کی صداقت کو ظاہر کرنا ہے۔اور یہ ہمارا کام ہے مگر ہم نے اس میں سے کسی حصہ پر عمل کیا ہے ؟ زور آور حملے تم نے کرنے تھے مگر ہو یہ رہا ہے کہ حملے دشمن کر رہا ہے۔خدا تعالٰی نے اس الہام میں یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم نے دشمن کے حملوں کو روکنا ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ہے۔بلکہ اس نے بتایا تھا کہ تم دشمن پرزور آور حملے کرو گے۔پس چاہئے تو یہ تھا کہ دشمن پر حملے کر کے اسے دفاع پر مجبور کر دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔تلوار دشمن کے ہاتھ میں ہے اور تم دفاع بھی نہیں کر رہے۔دور کے کام جانے دو، یہاں معمولی کام بھی نہیں ہو رہا۔ایک چھوٹا لڑکا میرا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور پوچھتا ہے ، حضور میرے وظیفہ کا کیا بنا ہے؟ میں اسے سمجھاتا ہوں اور کہتا ہوں ، بتاؤ روپیہ کہاں جاتا ہے؟ وہ کہتا ہے، انجمن میں۔میں کہتا ہوں پھر انجمن کے پاس جا کر وظیفہ کا پتہ کرو مگروہ کہتا ہے کہ میں انجمن کے پاس گیا تھا، وہ کہتے ہیں، حضور کے پاس جاؤ۔یعنی وہ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے وہ اسے میرے پاس بھیج دیتے ہیں۔اگر وظیفہ نہیں دینا تو اپنے منہ سے کہا کریں کہ ہم نے وظیفہ نہیں دینا۔جس بچے کو وظیفہ دینا ہوتا ہے، اسے تو کہتے ہیں ، آؤ بچے۔اور جس کو نہیں دینا ہوتا، اس کو کہتے ہیں، خلیفة المسیح کے پاس جاؤ۔حالانکہ شائستہ اور مہذب دنیا کا یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ افسر کو بری الذمہ قرار دیا جاتا ہے اور ما تحت عملہ اپنے پر ذمہ داری لیتا ہے۔لیکن یہاں جو کام افسر کا نہیں ، اس میں بھی ذمہ داری اس پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ نہایت کمزوری کی علامت ہے۔گویا کام کرنا تو الگ رہا، دونی چونی کے تنزل اور ترقی کے جو کام کرتے ہیں، ان میں بھی الزام مجھ پر ہی آتا ہے۔پس ایک دفعہ پھر میں صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اور اپنے بیوی بچوں پر رحم کرو۔آخر یہ بلائیں ساروں پر پڑیں گی۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت ہوگی تو وہ گرفت سب پر ہوگی اور اگر کوئی گرفت دنیا کی طرف سے ہوگی تو وہ بھی سب پر ہوگی۔اگر کوئی مرتد ہو کر غیر احمدی ہو جائے تو اور بات ہے۔لیکن جس کے اندر صداقت کو سمجھنے کی قوت ہے، وہ ایسا نہیں کرے گا۔بلا تمہارے سامنے ہے اور تم بڑے آرام سے سورہے ہو۔گویا تمہارے اندر قربانی کا مادہ ہی نہیں۔پس اپنے حوصلے بلند، افکار بلند اور خیالات بلند بناؤ اور سوچنے کی عادت ڈالو، نیک جذبات کی عادت ڈالو۔ان کے بغیر دشمن کا مقابلہ مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔مطبوعه روزنامه الفضل 07 مئی 1950 ء) 143