تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 130

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 جنوری 1950ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم اگر تمہیں برف کے میدانوں میں گھٹنوں کے بل بھی چل کر جانا پڑے تو اس کے پاس پہنچو اور اسے میرا سلام بھی پہنچاؤ۔اور پھر مبارک ہے، وہ شخص جس کو حضرت مسیح موعود مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شناخت کے بعد خدا تعالیٰ نے کام کی توفیق بخشی اور ایسے کام کی توفیق بخشی کہ اسے اس غرض کو ، جس کے لئے وہ دنیا میں آیا تھا، پورا کرنے کے لئے معتد بہ حصہ ملا اور ایسا حصہ ملا کہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں وہ سابقون الاولون میں لکھا گیا۔پس نو جوانوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں زریں موقع عطا فرمایا ہے۔جو صدیوں بلکہ میں کہتا ہوں، ہزاروں سال میں بھی میسر نہیں آتا۔دنیا نے 6 ہزار سال تک انتظار کیا اور پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہوئے۔پھر 13 صدیاں مسلمانوں نے بھی انتظار میں گزاریں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نائب ، بروز اور خلیفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا ہوئے۔اس زمانہ کو شیطان کی آخری جنگ کہا گیا ہے۔گویا اس سے زیادہ نازک وقت دین پر کبھی نہیں آیا اور آئندہ کبھی نہیں آئے گا۔سو اس موقع پر جس کو کام کرنے کی توفیق ملے، وہ نہایت ہی بابرکت انسان ہے۔پس اپنی اہمیت کو سمجھو، وقت کی نزاکت کو محسوس کرو اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر کرو، جو اس نے تمہارے ہاتھوں کی پہنچ میں رکھی ہے ، صرف تمہیں اپنا ہاتھ لمبا کرنے کی ضرورت ہے۔جس کے لئے وہ صلحاء اور بزرگ بھی ترستے رہے، جن کو یاد کر کے تمہاری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور تم ان پر رشک کرتے ہو۔جس طرح ان کا تقویٰ اور ان کا زہد تمہارے لئے قابل رشک ہے، اسی طرح تمہارا اس زمانہ میں کام کرنا ، ان کے لئے بھی قابل رشک ہے۔حضرت شبلیؒ ، حضرت جنید بغدادیؒ ، حضرت شہاب الدین سہروردی، خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت محی الدین ابن عربی کے نام جب تم پڑھتے ہوتو تمہیں اس بات پر رشک آتا ہے کہ انہوں نے کس کس رنگ میں خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے کوشش کی اور کیا کیا رستے برکتوں کے خدا تعالیٰ نے ان کے لئے کھولے۔اور تم رشک کرنے میں حق بجانب ہو کیونکہ وہ اپنے زمانہ میں دین کے ستون تھے۔وہ اپنے زمانہ میں خدا تعالیٰ کی رحمت کے نشان تھے اور خدا تعالیٰ کا چہرہ دکھانے والے تھے۔لیکن میں سچ کہتا ہوں، وہ بھی تم پر رشک کرتے ہیں۔کیونکہ تمہیں خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں پیدا کیا ہے، جس کے لئے ان کو بھی تڑپ تھی۔پس اپنی حیثیت کو سمجھتے ہوئے اور اپنے عالی مقام کو دیکھتے ہوئے تم وہ طریق کار تلاش کرو، جو بڑے درجہ کے لوگوں کو اختیار کرنا چاہئے“۔مطبوعه روز نامه افضل 22 جنوری 1950ء) 130