تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 117
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک یہودی ، ایک مسلمان کے خلاف مقدمہ لے کر آیا۔آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا۔مسلمان باہر نکلا اور اس نے یہودی سے کہا کہ چونکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے اچھی طرح بات نہیں کر سکا، اس لئے چلو، حضرت عمر سے فیصلہ کرائیں۔یہودی چونکہ تھوڑے تھے، اس نے سمجھا شاید اگر میں نہ مانا تو اپنا حق حاصل نہ کر سکوں۔اس نے یہ بات مان لی۔وہ حضرت عمر کے پاس گئے اور کہا کہ ہم آپ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانا چاہتے ہیں۔بات میں تفصیل کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔اس یہودی نے باتوں باتوں میں کہا کہ میں نے یوں کہا، اس نے یوں کہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یوں کہا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا۔اس کا کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا، ہم پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس مقدمہ لے گئے تھے اور آپ نے میرے حق میں فیصلہ فرما دیا تھا۔حضرت عمر اندر گئے اور تلوار لے آئے اور اس سے اس مسلمان کی گردن اڑا دی۔اور فرمایا جو شخص ، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فیصلہ پر راضی نہیں اور مجھ سے فیصلہ کرانا چاہتا ہے، وہ مجھے منافق بنانا چاہتا ہے۔پس جو اعلی کارکنوں پر معترض ہے اور کسی دوسرے کارکن کی تعریف کرتا ہے تمہیں فوراً سمجھ جانا چاہئے کہ اس میں بھی منافقت کی کوئی رگ پائی جاتی ہے۔یہ مغربی مرتد کہتا ہے کہ انگلینڈ میں سب برے تھے، صرف فلاں شخص اچھا تھا۔اور یہ شخص وہ ہے، جس نے نظم کوتوڑا اور افسر کی بات ماننے سے انکار کیا۔پس معلوم ہو گیا کہ یہ شخص پہلے سے منافق تھا اور منافق اس سے خوش تھے۔میں تم پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ تم اپنے تئیں تباہ کر رہے ہو۔اور جب تم اپنے تئیں تباہ کر رہے ہو تو یہ میرے بس کی بات نہیں کہ میں تمہیں بچا سکوں۔اور نہ ہی خدا تعالیٰ تمہیں بچا سکتا ہے۔کیونکہ اس نے پہلے سے یہ فیصلہ کر دیا ہوا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو تباہ کرنا چاہتا ہے، وہ کرلے، میں اسے نہیں بچاؤں گا۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ تم اگر خدا تعالی کی جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہو یا نجات کا دروازہ اپنے اوپر بند کرنا چاہتے ہو تو میں تمہاراذمہ دار نہیں اور نہ ہی خدا تعالیٰ تمہیں بچاسکتا ہے۔پس اساتذہ کا یہ طریق درست نہیں کہ وہ تلامذہ کے اخلاق کو درست کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتے۔ورنہ یہ نہ ہوتا کہ مولوی جہاں جاتے ، فساد کرتے۔جو ایسا کرتے ہیں، احمدیت سے ان کا دور کا تعلق بھی نہیں۔ایسے شخص لعنتی ہیں۔مجھے ڈر ہے کہ ان کی اولادیں بھی لعنتی ہوں گی۔کوئی مولویت کا تمغہ انہیں خدا کی لعنت سے بچ نہیں سکتا۔تیرہ سو سال کے بعد خدا تعالیٰ نے دنیا میں دوبارہ نور کو قائم کیا ہے۔تیرہ 117