تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 116

خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم چاہتے ہیں تو وہ اپنی بھی اصلاح کریں اور تلامذہ کے اخلاق کو بھی درست کریں۔ورنہ میری نظر میں ان کی کو علمیت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اگر وہ سلسلہ کے لئے مفید وجود ثابت نہ ہوں تو ان کی میری نظر میں کوئی قدر نہیں۔ایسے آدمی جو اخلاق میں گرے ہوتے ہیں، انہیں اسی طرح باہر پھینک دیا جائے گا، جس طرح دودھ سے مکھی کو نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے۔کتنے افسوس کی یہ بات ہے کہ وہ مبلغ جن کا یہ کام ہے کہ وہ دوسروں میں نظام کی روح پیدا کریں ، وہ جہاں جاتے ہیں، لڑنے لگ جاتے ہیں۔مولوی کیا ہو ہلکا کتا ہوا کہ جہاں جاتا ہے ، لوگوں کو کا تنا پھرتا ہے۔آخر وجہ کیا ہے کہ دوسری قوموں میں بھی نظم پایا جاتا ہے لیکن تم میں نظم نہیں پایا جاتا؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ اساتذہ یہ باتیں تلامذہ کے کانوں میں نہیں ڈالتے۔وہ صرف فَعَلَ فَعَلا فَعَلُوا کی گردانیں رٹواتے ہیں، عمل کی طرف توجہ نہیں دلاتے۔حالانکہ میں سمجھتا ہوں، عربوں نے فعل کی گردانیں بنائی ہی اس لئے تھیں کہ وہ عمل کی طرف توجہ دلائیں۔فعل کے معنی کام کرنے کے ہوتے ہیں۔بنانے والوں نے تو فعل کی گردانیں بنائیں لیکن پڑھنے والوں نے عمل ہی چھوڑ دیا۔اساتذہ کو نہ عمل کی طرف توجہ ہے، نہ اخلاق کی طرف توجہ ہے۔نہ انہیں اس ذمہ داری کا احساس ہے، جو سلسلہ کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہے اور نہ انہیں یہ روح تلامذہ میں پیدا کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔میں کہتا ہوں کہ ماتحت کو اپنے افسر کا حکم ماننا ہی پڑے گا، خواہ وہ کتنی ہی ذلت اور رسوائی والا حکم ہو۔اسے کام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے ، چاہے اسے موت ہی آجائے۔ہاں بعد میں وہ اپیل کر سکتا ہے اور اس افسر کے خلاف بھی کاروائی ہوسکتی ہے۔لیکن پہلے اسے حکم مانا ہوگا، بعد میں اپیل ہوگی۔پھر افسر کے خلاف باتیں نہیں کرنی چاہئیں، لوگوں میں اس کے خلاف پراپیگنڈا نہیں کرنا چاہئے۔جو ایسا کرتا ہے، ایک جاہل بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ روپیہ ضائع کرتا ہے۔یہی جھگڑا، جو انگلستان میں ہوا ہے، بتا تا ہے کہ اس شخص میں پہلے سے منافقت پائی جاتی تھی۔چنانچہ ایک یورپین مرتد نے ایک جگہ کہا کہ انگلستان کے سب مبلغوں میں سے وہ شخص (یعنی یہ منافقت کا مرتکب ) سب سے اچھا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتد کے کان بھرنے والوں میں سے یہ شخص بھی تھا اور اپنے افسر کے خلاف اسے ابھارتا تھا۔اس لئے وہ خوش تھا کہ یہ میری تائید کر رہا ہے۔اگر یہ نہیں تو وجہ کیا ہے کہ ایک منافق ، ایک مومن کی تعریف کرتا ہے؟ سیدھی بات ہے کہ جو منافق ، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اعتراض کرتا ہے ، وہ حضرت ابوبکریا حضرت عمرؓ کی تعریف نہیں کرے گا۔اگر وہ کسی ایسے شخص کی ، جو بظا ہر مومن کہلاتا ہے، تعریف کرتا ہے تو معلوم ہوگا کہ اس میں بھی منافقت کی روح پائی جاتی ہے۔116