تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 115
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد سوم خطبہ جمعہ فرمود 160 دسمبر 1949ء ہمارے اخلاق دوسروں سے بالا ہونے چاہئیں۔ابھی جب میں لا ہور گیا تو مجھے ایک غیر ملکی کا پیغام ملا کہ وہ مجھے ملنا چاہتا ہے۔میں نے انہیں چائے پر بلا لیا۔جب وہ مجھے ملنے آئے تو ان کے ساتھ ان کا ایک اور دوست بھی تھا، جو ان سے درجہ میں کم تھا۔میں دروازہ میں کھڑا تھا۔میں نے دیکھا کہ اس شخص نے ، جو آگے تھا، دوسرے شخص کو اشارہ کیا کہ آپ آگے بڑھیں۔لیکن پھر پچھلے شخص کا ہاتھ مجھے نظر آیا، جس سے میں نے سمجھا کہ پچھلے شخص نے اگلے شخص سے کہا ہے کہ نہیں آپ ہی آگے جائیں۔ان کے اس طریق کار سے میں یہی سمجھا کہ وہ شخص بڑا ہے اور یہ ماتحت ہے۔جب وہ چائے کے میز کے قریب پہنچے تو جیسے یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ بڑا آدمی میزبان کے قریب بیٹھتا ہے اور چھوٹا کرسی پر بیٹھتا ہے، اگلے آدمی نے پچھلے کو آگے بڑھنے کے لئے کہا۔مگر اس نے اشارہ کیا کہ آپ ہی بیٹھ جائیں۔اور وہ آگے آکر میرے پاس بیٹھ گیا۔مجھے یہ معلوم تھا کہ میرے پاس بیٹھنے والا شخص بھی دوسرے شخص سے تعلق رکھتا ہے۔کیونکہ میں اس سے پہلے مل چکا تھا، میں اتنا سمجھتا تھا کہ یہ بھی اس کے کام میں شریک ہے۔اور ایک بڑا ہے اور ایک چھوٹا۔مگر دوسرے شخص کو آگے کرنے کی وجہ سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ دوسرا کام میں بڑا درجہ رکھتا ہے اور وہ جسے میں جانتا ہوں ، چھوٹا۔خیر باتیں ہوتیں رہیں۔بعد میں، میں نے ایک دوست سے، جوان کا واقف تھا، پوچھا کہ کیا جو نیا آدمی تھا، وہ بڑے درجے کا تھا اور پرانا چھوٹے درجہ کا ؟ تو اس نے کہا کہ نہیں، جو نیا آدمی ہے، وہ تو پرانے سے بہت چھوٹا ہے۔میں نے کہا، پھر یہ کیا بات ہے کہ جب وہ مجھے ملنے کے لئے آیا تو بڑے نے چھوٹے کو آگے بڑھنے کے لئے کہا؟ اس پر مجھے جواب ملا کہ مغربی لوگوں میں یہ رواج ہے کہ اپنے سے چھوٹوں میں وقار نفس پیدا کرنے کے لئے ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔یہ طریق نہایت اچھا ہے۔اور افسروں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ اپنے ماتحتوں کا ادب اور احترام کریں اور ان سے اس رنگ میں سلوک کریں کہ انہیں احساس ہو کہ ان کا افسران کا اعزاز کرنا چاہتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جو تعلیمی ادارے ہیں، ان کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ہمارے تعلیمی ادارے اخلاق کی طرف بہت کم توجہ دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے دینیات کی تعلیم کا بھی ستیا ناس ہو رہا ہے اور اخلاق بھی ستیا ناس ہو رہے ہیں۔انہیں اداروں سے مبلغ بن کر آتے ہیں۔ہاں کالج اور ہائی سکول کی حالت بہتر ہے۔اور یہ افسوسناک امر ہے کہ دین داری کی تعلیم دینے والے ادارے، بے دین ثابت ہورہے ہیں۔لیکن جو دینداری کی تعلیم دینے والے ادارے نہیں، ان کی حالت بہتر ہے۔میں ان لوگوں کو واضح طور پر کہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر وہ سلسلہ احمدیہ میں رہنا چاہتے ہیں اور اس کا مفید وجود بننا 115