تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 114

خطبہ جمعہ فرمود : 16 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلدسوم بادشاہت فور امل گئی تھی لیکن ہمیں نہیں ملی۔مگر وہاں تنظیم بگڑ گئی تھی ، یہاں تنظیم نہیں بگڑے گی۔بعض لوگو استنباط کر کر کے مجھے لکھتے ہیں کہ تیسرے یا چوتھے خلیفہ کے وقت میں یوں ہو گیا تھا۔میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جو اس وقت وہاں ہوا تھا، یہاں ہوا ہے؟ وہ تو بادشاہ ہو گئے تھے۔لیکن مجھے تو ابھی بادشاہت نظر نہیں آتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں جو فرق تھا، وہ فرق یہاں بھی نظر آئے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت مسیح علیہ السلام کے مثیل ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد جلد ہی تنظیم بگڑ گئی تھی۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد بھی تنظیم بگڑ گئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت اب بھی چل رہی ہے، خواہ اب پہلی صورت نہیں رہی لیکن پوپ اب بھی چل رہا ہے۔اس لئے تمہیں یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت جلد یا بدیرختم ہو جائے گی اور تم من مانی کاروائیاں کر سکو گے۔تمہارے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا، جو سیح علیہ السلام کی جماعت کے ساتھ کیا گیا تھا۔یہ درست ہے کہ یہاں باغی عناصر موجود ہیں لیکن تمہیں یا درکھنا چاہیئے کہ باغی عناصر حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں بھی موجود تھے۔مگر کیا انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام یا آپ کی جماعت کو کوئی نقصان پہنچایا؟ اسی طرح ان لوگوں کا اس قسم کی امید رکھنا احمقانہ بات ہوگی۔اور ان کی خواہشات ان کی اپنی تعبیر کے مطابق کبھی بھی پوری نہیں ہوں گی۔لیکن ساتھ ہی میں افسروں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دینداری اور تقویٰ اختیار کریں اور اپنے ماتحتوں میں نظم پیدا کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔اور ساتھ ہی میں انہیں اس طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ماتحت سے محبت سے پیش آئیں۔بے شک وہ شخص منافق ہے، جو کسی بھی اشتعال پر نظم کو توڑتا ہے۔بے شک وہ شخص مردود ہے، جو کسی بھی اشتعال پر نظم کو توڑتا ہے۔اگر اشتعال انتہا درجہ کا بھی ہو، تب بھی اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ نظم کو توڑے۔ہاں بعد میں وہ اپیل کر سکتا ہے اور اپنی بات افسران بالا تک پہنچا سکتا ہے۔لیکن اگر وہ نظم کو توڑتا ہے تو اسی وقت جماعت سے نکل جاتا ہے، وہ احمدی نہیں رہتا۔جب تک وہ تو بہ کر کے احمدیت میں دوبارہ داخل نہ ہو۔لیکن وہ افسر جو ایسے سامان پیدا کر دیتے ہیں کہ دوسرا شخص مرتد ہو جائے ، وہ بھی کم سزا کا مستحق نہیں۔حضرت مسیح ناصری نے کہا ہے کہ افسوس ہے ، اس شخص پر جس کی وجہ سے دوسرا آدمی ٹھو کر کھا جاتا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ ایسا آدمی جس کی وجہ سے دوسرا آدمی مرتد ہو جائے ، حالانکہ وہ اس طریق سے جائز طور پر بچ سکتا تھا، کم سزا کا مستحق نہیں۔114