تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 112

خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم در حقیقت اعلی اخلاق کے بغیر کوئی قوم طاقت حاصل نہیں کر سکتی۔بعض تو میں ایسی ہوتی ہیں، جن کو اپنے اعداد پر بھروسہ ہوتا ہے۔بعض قوموں کو استعداد پر بھروسہ ہوتا ہے۔بعض قوموں کو اپنے مال اور دولت پر بھروسہ ہوتا ہے۔لیکن الہی سلسلے ابتداء میں ان سب باتوں سے محروم ہوتے ہیں۔نہ ان کے پاس حکومت ہوتی ہے، نہ ان کے پاس مال و دولت ہوتی ہے، نہ ان کے پاس دنیاوی سامان ہوتے ہیں، نہ ان میں دنیا وی استعدادیں ہوتی ہیں اور نہ ان کے اعداد زیادہ ہوتے ہیں۔تعداد میں وہ کم ہوتے ہیں، دنیوی سامانوں میں وہ کم ہوتے ہیں، مال ان کے پاس تھوڑے ہوتے ہیں ،حکومت انہیں حاصل نہیں ہوتی۔پھر وہ کیا چیز ہے، جس کے ذریعہ انہیں امید ہوتی ہے کہ ہم کامیاب ہو جائیں گے اور دنیا کو فتح کرلیں گے؟ ظاہر ہے کہ وہ چیز صرف الہی فضل ہے۔مگر فضل الہی کو جذب کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ فضل الہی اعمال صالحہ سے جذب کیا جاتا ہے اور اعمال صالحہ کا نام ہی اخلاق فاضلہ ہے۔پس وہ ایک ہی چیز ، جو الہی سلسلوں کی فتح کا موجب ہوا کرتی ہے، یہی اعلیٰ کردار اور بلند اخلاق ہیں۔اگر ان کی طرف سے ہماری توجہ ہٹ جائے ، اگر اساتذہ یہ مد نظر نہ رکھیں کہ تعلیم میں سب سے زیادہ اہمیت اخلاق فاضلہ کو حاصل ہے تو جو پور پیدا ہوگی ، وہ سلسلہ کے لئے زیادہ مفید نہیں ہوگی۔میں کچھ عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے مبلغین میں وہ اخلاق فاضلہ نظر نہیں آتے ، جو ان میں ہونے چاہئیں۔جہاں جہاں ہمارے ایک سے زیادہ مبلغ ہیں، وہاں سے متواتر رپورٹیں آرہی ہیں کہ وہ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور ماتحت مبلغ اپنے افسر مبلغین کی اطاعت نہیں کرتے۔نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ وہاں ہماری تبلیغ رک جاتی ہے اور وہاں کی جماعت پر اس کا برا اثر پڑتا ہے۔یہ لوگ سلسلہ کا روپیہ لے کر وہاں بیٹھے پارٹی بازی کر رہے ہیں۔بھلا یہ کون سے فخر کی بات ہے کہ کوئی کہے کہ اگر میں وقف میں نہ آتا تو میں دو، اڑھائی سو روپیہ ماہوار کا سکتا تھا اور یہاں مثلاً 60-70 روپے ملتے ہیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا 60-70 روپے حرام کھانے جائز ہیں؟ فرض کرو ایک شخص وقف میں نہ آتا تو وہ دو، اڑھائی سور و پیہ ماہوار کما سکتا تھا، وہ اتنی آمد چھوڑ کر وقف میں آیا اور اخلاق فاضلہ نہ دکھائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ خدا تعالیٰ کا اس کے بدترین دشمنوں سے بھی زیادہ دشمن ہے۔کیونکہ بدترین سے بدترین دشمن بھی اپنا نقصان کر کے خدا تعالیٰ کی دشمنی نہیں کرتا۔مگر یہ شخص اپنا نقصان کر کے بھی خدا تعالیٰ کی دشمنی کر رہا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی دشمنی میں انتہا درجہ کا بڑھا ہوا ہے۔پہلے یہ بات افریقہ میں شروع ہوئی ، پھر ملایا میں، پھر انڈونیشیا سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہوئی، پھر ملایا انڈونیشیاسے شروع ہوئیں، اب انگلینڈ سے بھی ایسی رپورٹیں آرہی ہیں، جن سے شقاق اور لڑائی جھگڑے کی بو آتی ہے۔112