تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 111

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء اعلیٰ اخلاق کے بغیر کوئی قوم طاقت حاصل نہیں کر سکتی خطبہ جمعہ فرمودہ 16 دسمبر 1949ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج میں واقفین تحریک جدید اور کارکنان سلسلہ احمدیہ کے متعلق خواہ وہ آنریری ہوں یا گزارہ خوار ہوں، بعض ضروری امور بیان کرنا چاہتا ہوں۔تحریک جدید کو چاہئے کہ وہ فوراً اس خطبہ کو شائع ہونے کے بعد رجسٹر ڈ کر کے ہر مبلغ کو خواہ وہ ملک کے اندر کام کر رہا ہے یا ملک سے باہر کام کر رہا ہے، بھجوا دے۔اور مدارس میں وہ طلباء ، جنہوں نے زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں یا جو مبلغ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، ان کو بھی اکٹھا کر کے یہ خطبہ سنادیا جائے۔اور اس بات پر کفایت نہ کی جائے کہ انہوں نے خطبہ خود سن لیا ہے۔قرآن کریم سے یہ بات ظاہر ہے اور میں نے جماعت کو اس کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے کہ اصل طاقت انسان میں اس کے اخلاق فاضلہ سے پیدا ہوتی ہے۔اخلاق فاضلہ سے میری مراد اس جگہ پر ہندوستانی اخلاق نہیں۔یعنی کسی سے نرمی اور ملاطفت سے پیش آنا۔یہ چیز بھی بے شک اخلاق فاضلہ میں ہی داخل ہے۔لیکن یہ اخلاق فاضلہ کے نہایت ہی محدود معنی ہیں۔اخلاق فاضلہ کے معنی در حقیقت ان اعلیٰ افعال کے ہوتے ہیں، جو ہر قسم کے انسانی اعمال کا محرک بنتے ہیں۔اور جب تمام انسانی اعمال اعلیٰ درجہ کے خیال اور اعلیٰ درجہ کے اصول کے تابع ہو جائیں یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ شریعت کے مطابق ہو جائیں تو وہ ملک کے لئے مفید ہوتے ہیں۔خلق کے معنی جہاں یہ ہیں کہ انسان کسی دوسرے سے نرمی کا برتاؤ کرے، وہاں خلق کے معنوں میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ وہ موقع پر بہادری، دلیری اور جرات سے کام لے۔خلق کے معنی جہاں مناسب موقعہ پر اپنے جذبات کو ابھارنے کے ہوتے ہیں ، وہاں خلق کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہ اطاعت اور فرماں برداری سے کام لے اور نظم کی پابندی اختیار کرے۔یہ ساری باتیں اخلاق میں داخل ہیں۔جہاں خلق کے معنی نرمی کے ہیں، وہاں خلق کے معنی یہ بھی ہیں کہ موقع پر دہ جرات اور دلیری سے دشمن کا مقابلہ کرے اور اس کو زیر کرے۔جہاں خلق کے معنی غربت اور تکلیف کو برداشت کرنے کے ہیں، وہاں خلق کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہ مال آنے پر اس کا صحیح استعمال کرے اور خدا تعالی اور اس کے بندوں کی رضامندی کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔111