تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 101
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1949ء تحریک کے آغاز پر جماعتی جذ بہ اور کم مائیگی دونوں ایمانی تاریخ میں زندہ مثال ہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1949ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔چونکہ مجھے تین دن سے در دنفرس کا دورہ ہے، اس لئے میں کھڑے ہو کر خطبہ نہیں پڑھ سکتا۔بلکہ ممکن ہے، نماز بھی بیٹھ کر پڑھاؤں۔ہاں کوشش کروں گا کہ نماز کھڑے ہو کر ہی پڑھاؤں لیکن درد کی شدت کی وجہ سے مجھے سجدے اور قعدے میں پاؤں نکال کر ہی سجدہ یا قعدہ کرنا پڑے گا۔جیسا کہ احباب کو معلوم ہے یا کم از کم ان احباب کو معلوم ہے، جو معاملات کو سوچنے اور ان پر غور کرنے کے عادی ہیں اور اس پر ان کے خطوط ، جو دو تین ہفتے سے آ رہے ہیں، شاہد ہیں کہ یہ جمعہ سابقہ روایات کے مطابق تحریک جدید کے نئے سال کی تحریک کے اعلان کرنے کا جمعہ ہے۔تحریک جدید کو شروع ہوئے پندرہ سال ہو چکے ہیں۔اب یہ سولہواں سال شروع ہورہا ہے۔جس جوش اور جس جذ بہ اور ایثار کے ساتھ جماعت کے دوستوں نے پہلے سال کے اعلان کو قبول کیا تھا اور جس کم مائیگی اور کمزوری کے ساتھ ہم نے یہ کام شروع کیا تھا، وہ دونوں باتیں ایمان کی تاریخ میں ایک اہم حیثیت رکھتی ہیں۔وہ جذبہ، جوش اور ایثار بھی جس کے ساتھ اس کام کو شروع کیا گیا تھا، غیر معمولی اور مومنوں کی شاندار روایات کے مطابق تھا اور وہ بے بسی اور کم مائیگی جس کے ساتھ ہم نے یہ کام شروع کیا تھا، وہ بھی مومنوں کی تاریخ کی ایک زندہ مثال تھی۔یعنی تھی تو وہ بے بسی تھی تو وہ بے کسی تھی تو وہ کم مائیگی لیکن وہ اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ مومن ایسے ہی حالات سے گزرا کرتے ہیں۔وہ اس بات کی شہادت دے رہی تھی کہ گزشتہ انبیاء کی جماعتوں کو ایسی مشکلات سے ہی دو چار ہونا پڑا ہے۔پس وہ بے بسی، بے کسی اور کم مائیگی بھی مومنوں کی جماعت سے ہماری جماعت کو ملاتی تھی۔اور وہ جوش اور وہ جذ بہ اور ایثار، جو جماعت نے دکھایا، وہ بھی ہمیں مومنوں کی جماعت سے ملاتا تھا۔گویا 34ء کا نومبر ایک نشان تھا، سلسلہ احمدیہ کے مخالفوں کے لئے۔وہ ایک دلیل اور برہان تھا، سو چنے اور غور کرنے والوں کے لئے۔کہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ انہیں قدروں پر چل رہی ہے، جن پر گزشتہ انبیاء کی جماعتیں چلتی چلی آئی ہیں۔101