تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 102

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 نومبر 1949ء تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد سوم تحریک جدید کے پہلے سال، میں نے جماعت سے 27 ہزار روپیہ کی اپیل کی تھی۔میں اب خود بھی نہیں مان سکتا کہ آیا ایسا ہوسکتا ہے۔لیکن جیسا کہ خطبہ کے الفاظ سے ظاہر ہے، وہ 27 ہزار روپیہ کی اپیل تین سال کے لئے تھی۔یعنی وہ 27 ہزار روپیہ 9- 9 ہزار روپیہ سالانہ کر کے تین سال کے لئے مانگے گئے تھے۔اپنی ہوش کے وقت ، یعنی اب جبکہ میں سوچتا ہوں، میں یہ خیال بھی نہیں کر سکتا اور نہ جماعت کے غور کرنے والے لوگ خیال کر سکتے ہیں کہ اس کے معنی کیا تھے؟ کہا یہ گیا تھا کہ ہم ساری دنیا کو فتح کرنے کے لئے نکلنے لگے ہیں۔کہا یہ گیا تھا کہ اب طاغوتی طاقتیں انتہائی زور کے ساتھ اسلام اور احمدیت پر حملہ آور ہوئی ہیں، اس لئے ہمیں اب احمدیت کی حفاظت کے سامانوں کو کمال تک پہنچا دینا چاہئے۔دعوئی تو یہ کیا گیا تھا کہ ہم تمام دنیا کے حملوں کا دفاع کرنے کے لئے کھڑے ہورہے ہیں۔اور یہ کہ ہم نے دنیا بھر میں احمدیت کی تبلیغ کو وسیع کرنا ہے۔لیکن اس کام کے لئے مانگا گیا تھا، صرف نو ہزار روپیہ سالانہ ، جو امریکہ جانے والے مبلغ کے ایک طرف کے کرایہ میں ہی خرچ ہو جاتا ہے۔ابھی کچھ دن ہوئے خلیل احمد ناصر امریکہ گئے ہیں۔غالبا ان کے پاکستان کے امریکہ تک کے کرایہ پر نو ہزار روپے لگے ہیں۔اسی طرح صوفی مطیع الرحمن صاحب، جب امریکہ سے واپس آئے تھے تو ان کے کرایہ پر دس بارہ ہزار روپیہ خرچ آ گیا تھا۔پس صرف ایک جگہ پر جانے والے مبلغ کے ایک طرف کے کرایہ کے لئے جتنے اخراجات کی ضرورت تھی، اتنی رقم کے لیے جماعت میں تحریک کرنا عقل سے باہر نہیں تو اور کیا ہے؟ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس وقت ہماری بے بسی اور بے کسی کی کیا حالت تھی ؟ اس وقت میں یہ محسوس کرتا تھا کہ ہماری جماعت اتنی کمزور اور اتنی غریب ہے کہ ان سے نو ہزار روپیہ سے زائد رقم مانگی ، ناممکن بات ہے۔اور میں نے اس وقت یہ سمجھا تھا کہ اس وقت جوش کی حالت میں ہم جماعت سے اتنا روپیہ لے لیں تو لے لیں، ور نہ ہو سکتا ہے کہ اگلے سال جماعت میں اتنا جوش نہ ہو کہ وہ نو ہزار روپیہ کی رقم دے سکے۔اس لئے میں نے تین سال کے لئے نو نو ہزار روپیہ کے حساب سے ستائیس ہزار روپیہ غالبا اکٹھاما نگ لیا۔پس میری وہ تحریک بتاتی ہے کہ کم از کم میں اس وقت یہ سمجھتا تھا کہ جماعت کی حالت نو ہزار روپیہ دینے کی نہیں۔میری یہ تحریک بتاتی ہے کہ میں اس وقت یہ سمجھتا تھا کہ ہم نے اگر انتہائی زور لگا کر روپیہ جمع کر لیا تو صرف نو ہزار روپیہ سالانہ جمع کر سکتے ہیں۔میری یہ تحریک بتاتی ہے کہ میں اس وقت یہ سمجھتا تھا کہ یہ نو ہزار روپے بھی جمع کرنا ، وقتی جوش کے مطابق ممکن ہیں۔ورنہ بالکل ممکن ہے کہ جوش ٹھنڈا ہو جائے تو یہ بھی جمع نہ ہوسکیں۔اس لئے میں نے کہا کہ تین سال کی رقم اکٹھی لے لو اور 27 ہزار لے لو لیکن ہوا کیا ؟ ہوا یہ کہ جماعت نے جو 102