تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 97

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1949ء اس کا ایک ہی علاج ہوسکتا ہے۔وہ یہ کہ عورتیں مبلغ بنیں۔اگر وہ عورتوں میں تبلیغ کریں گی تو ہمارے رستہ سے یہ روک یقینا ہٹ جائے گی۔مرد عورتوں میں تبلیغ کرے گا تو انہیں یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ مرد کے ہاتھ میں قلم جو ہوئی، جو چاہا لکھ دیا۔لیکن اگر عورت تبلیغ کرے گی تو دلائل پر بات آجائے گی۔اور ہمیں یقین ہے کہ اسلام دلائل میں ہمیشہ غالب رہتا ہے۔مر تبلیغ کرے گا تو جذباتی باتیں تبلیغ میں روک بن جائیں گی ، دلائل پر بات نہیں آئے گی۔عورت سمجھے گی کہ بوجہ مرد ہونے کے یہ اس بات پر زور دیتے ہیں۔عورت مرد کے مقابلہ میں دلیل کو سوچتی نہیں، اس لئے ہماری ہر دلیل بے کار جائے گی۔لیکن یہی باتیں جب ایک عورت کے منہ سے نکلیں گی تو بات جذباتی رنگ میں ہی نہیں رہے گی بلکہ خالص عقلی رنگ اختیار کر جائے گی۔اور خالص عقلی رنگ میں یقیناً ہمارا پہلو غالب رہے گا۔دوسرے عورتیں عورتوں میں تبلیغ کر کے انہیں اسلام کی طرف لے آئیں گی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مردگھروں میں بجائے مخالفت کے احمدیت کی تعریف سنیں گے اور اس طرح وہ احمدیت کے زیادہ قریب آجائیں گے۔ان سب باتوں کو سوچنے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں عورتوں میں بھی وقف زندگی کی تحریک کو جاری کروں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں مشکلات بھی ہوں گی۔مگر ان کا حل بھی سوچا جا سکتا ہے۔پھر اگر عورتیں اس تحریک میں شامل ہوں گی تو ان کے لئے علیحدہ نظام قائم کرنا ہوگا اور اسے عورتوں کے سپر دہی کرنا ہو گا۔ورنہ مشکلات زیادہ پیدا ہو جائیں گی اور مخالفین کی طرف سے اعتراضات بھی ہوں گے۔لیکن لجنہ کے ذریعہ یہ کام کیا جاسکتا ہے۔جس طرح تحریک جدید مردوں کے لئے کام کر رہی ہے، اسی طرح لجنہ اماء اللہ عورتوں کے لئے کام کرے گی۔اس کی طرف سے بجٹ آجایا کرے گا اور ہم اسے منظور کر دیا کریں گے۔لیکن خرچ سارا عورتوں کی کمیٹی ہی کرے گی۔یہ کام کس طرح ہوگا اور واقف زندگی عورتوں کی زندگی کیسے گزرے گی؟ یہ بھی ایک نازک سوال ہے۔واقف زندگی عورتیں اگر واقف زندگی مردوں سے نہیں بیاہی جائیں گی تو بہت سی مشکلات پیش آئیں گی۔خاوند کہیں نوکری کررہا ہوگا اور عورت کہیں تبلیغی کام کر رہی ہوگی۔اس کا حل یہی ہے کہ جو عورتیں اس تحریک میں شامل ہوں ، وہ واقف زندگی مردوں سے شادی کریں۔جب وہ واقف زندگی مردوں سے شادی کریں گی تو عورت کو مقدم رکھتے ہوئے ، ہم اس کے خاوند کو بھی اسی علاقہ میں لگا دیں گے، جہاں عورت کے کام کو زیادہ اہمیت ہوگی۔پھر تبلیغ کی کیا صورت ہوگی؟ میں نے اس پر بھی غور کر کے تسلی کر لی ہے۔اس کا انتظام ایک بڑی حد تک ہو سکتا ہے۔اصل سوال شادی کا ہے اور اس کا علاج یہ ہے 97