تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 96
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد سوم عورتیں سمجھتی ہیں کہ پردہ کی وجہ سے انہیں بلاوجہ گھروں میں بند رکھا جاتا ہے، غیر مردوں سے ملنے سے روکا جاتا ہے۔کثرت ازدواج کی وجہ سے ان کی بہتک کی جاتی ہے۔وہ سمجھتی ہیں کہ مشرقی پنجاب میں جو عظیم الشان تبا ہی عورتوں پر آئی ہے، وہ محض پردہ کی وجہ سے ہے۔مغربی لوگوں کو بھی مسلمانوں سے نفرت ہے کیونکہ مسلمان عورتیں پردہ کرتی ہیں۔لیکن جب وہ ہندوؤں کے پاس جاتے ہیں ، ان کی بیویاں ان سے آزادی سے ملتی ہیں، وہ ان سے باتیں کرتی ہیں، اس لئے وہ ہندؤوں کا اچھا اثر لے کر واپس جاتے ہیں کیونکہ انہیں عورتوں سے بات چیت کرنا زیادہ مرغوب ہوتا ہے۔کہیں مغربیت کے دلدادہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کا آلہ کار بنانے کے لئے انہیں علمی اور سیاسی میدان میں لانے کا بہانہ بنا کر پردہ کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔کہیں وہ اپنے آپ کو علماء میں سے گردانے جانے کا ارادہ اور سعی لے کر عورتوں کے مطالبات کو پورا کرنے کا سوال لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔یہ چیزیں جہاں عورت کو احمدیت کے قبول کرنے سے روک رہی ہیں، وہاں مردوں میں بھی تبلیغ کے رستہ میں روک بن رہی ہیں۔مرد بھی عورت کا نام لے کر احمدیت سے ہٹ رہے ہیں۔کچھ تو اس لئے کہ عورتوں کی مجلس سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کچھ اس لئے کہ اگر چہ ان میں عورتوں کی مجلس سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی خواہش نہیں لیکن ان کی عورتیں، بہنیں اور بیٹیاں کالجوں میں جاتی ہیں، وہ مغربیت کی دلدادہ ہوتی ہیں، اس لئے وہ مردوں کو بھی احمدیت سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتی ہیں۔غرض مرد کبھی ذاتی طور پر اور کبھی بیوی بچوں کی خواہشات کا خیال کر کے مغربیت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے، اسے وہ برا سمجھتا ہے۔اب اگر عورتوں کے مسائل پر روشنی ڈالی جائے تو یہ چیزیں عورتوں کے حق کی طرف مائل ہونے میں روک بن جاتی ہیں۔وہ سارے دلائل سن کر یہ کہہ دیتی ہیں ، ہاں جی تم مرد جو ہوئے۔آپ کی تو غرض ہی یہ ہے کہ ہم تہذیب سے بے بہرہ رہیں، پردہ ہمارے منہ پر ہوتا ہے ، نقاب سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے، دوسری شادی سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔تمہارے تو مزے ہی مزے ہیں۔آپ ایسا نہ کریں تو پھر مزے کیسے اٹھائیں؟ پھر بعض عورتیں یہ کہہ دیتی ہیں کہ مرد کے ہاتھ میں قلم جو ہوا، اس لئے جو چاہے ، وہ لکھ دے۔وہ یہ کہنے سے ڈرتی ہیں کہ مذہب ایسا کہتا ہے۔وہ کہتی ہیں ، مرد جو چاہتا ہے ، مذہب کے نام پر کہہ دیتا ہے۔اس کے ہاتھ میں قلم ہے، جو چاہے، لکھ دے۔گویا یہ باتیں مذہب سے تعلق نہیں رکھتیں۔مردوں نے محض اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مذہب کے نام پر لکھ دی ہیں۔96