تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 802

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 95

خر یک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلدسوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1949ء احمدی مستورات خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں " خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اکتوبر 1949ء چند مہینوں سے میں غور کر رہا تھا کہ ہماری تبلیغ کے راستہ میں بہت سی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ہماری اندرونی اور بیرونی تبلیغ بہت سست ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ میں نے غور کر کے سمجھا کہ اس کی زیادہ تر وجہ عورتوں میں اس آزادی اور بے دینی کا پیدا ہونا ہے، جو ان میں مغرب کے اثر کی وجہ سے آگئی ہے۔ویسے تو اسلام نے بھی عورتوں کو آزادی دی ہے۔لیکن ان کی مغربی رنگ کی آزادی ان کے احمدیت قبول کرنے میں مانع ہے۔اور جب یہ آزادی عورت کے احمدیت قبول کرنے میں مانع ہوتی ہے تو ماں کے جو اولاد پیدا ہوتی ہے، اسے بھی وہ احمدیت کے قبول کرنے سے روکتی ہے۔اسی طرح وہ اپنے خاوند کو بھی احمدیت کے قبول کرنے سے روکے گی۔کیونکہ اگر وہ احمدیت قبول کرلے تو اس کی آزادی میں فرق آ جائے گا۔غرض عورتیں ہماری تبلیغ میں روک بن رہی ہیں اور یہ حلقہ آہستہ آہستہ وسیع ہوتا جائے گا۔کیونکہ یہ جب بڑے بڑے شہروں میں پھیل جائے گی تو بڑے شہروں سے قصبات میں آجائے گی اور قصبات سے گاؤں میں آجائے گی اور بڑے گاؤں سے چھوٹے گاؤں میں پھیل جائے گی۔مردوں کی نسبت عورتیں احمدیت کی تبلیغ میں زیادہ روک بن رہی ہیں۔کوئٹہ میں ملٹری آفیسرز میں میں نے ایک لیکچر دیا۔جب وہ آفیسر زاپنے گھروں میں واپس گئے تو عورتوں نے بہت لے دے کی۔انہوں نے اپنے خاوندوں سے کہا تم احمدیوں کے جلسے میں کیوں گئے تھے ؟ بعض لوگ احمدیت کے بالکل قریب تھے لیکن محض عورتوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ گئے۔ایک عورت نے اپنے خاوند کو، جو ایک فوجی افسر تھے، کہا کہ احمدی تو پردہ کی تعلیم دیتے ہیں، ایک سے زیادہ بیویوں سے شادی کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، اگر تم ان کی مجالس میں گئے تو میرا اور تمہارا گزارہ مشکل ہو جائے گا۔تعدد ازدواج، پردہ اور دوسری مختلف باتیں، جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں اور جن کو آج کل کی عورتیں پارہ پارہ کرنا چاہتی ہیں ، وہ احمدیت میں پائی جاتی ہیں۔اس لئے وہ احمدیت کی تبلیغ میں روک بن رہی ہیں اور روک بنتی چلی جاتیں ہیں۔اور یہ روک دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے۔95