تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 94
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 107 کتوبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد سوم نہیں سکتی۔اگر عزم کے ساتھ گیارہ آدمی بھی کھڑے ہو جائیں اور ان میں سے دس مر جائیں تو باقی رہنے والا ایک آدمی پھر ان دس مرنے والوں کو زندہ کر دے گا۔اگر اس عزم کے ساتھ نوسوننانوے آدمی کھڑے ہو جا ئیں اور نو سو جگہ پر قیامت آجائے تو ننانوے آدمی پھر باقی نو سو جگہوں کو زندہ کر لیں گے۔پس اصل چیز یہی ہے کہ اپنے اندر عزم پیدا کرو۔جب ہماری جماعت کے نوجوان یہ فیصلہ کر لیں گے کہ ہم میں سے ہر شخص سلسلہ کا ذمہ دار ہے تو کیا وہ لوگ ، جنہوں نے ساری دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے، وہ اپنے محلہ کو فتح نہیں کر سکیں گے؟ اپنے گاؤں یا اپنے شہر کو فتح نہیں کر سکیں گے ؟ جب ہماری جماعت کے لوگ یہ عزم کرلیں گے کہ ہم دنیا کو فتح کریں گے تو ساری دنیا کو فتح کرنے میں تو کچھ دیر لگے گی ، وہ محلہ اور شہر کو نہیں چھوڑیں گے اور اسے جھوڑ کر رکھ دیں گے۔اور جب وہ اپنے محلہ اور شہر والوں کو جنجھوڑ دیں گے تو جن لوگوں کے دلوں میں ایمان ہوگا، وہ بیدار ہو جائیں گے اور وہ بھی ہر قسم کی قربانیوں کے لئے تیار ہو جائیں گے۔پس اپنی ذمہ داری کو سمجھو اور وقت کی نزاکت کا احساس کرو۔میں کہہ چکا ہوں کہ یہ خطبہ صرف لاہور کی جماعت کے لئے نہیں بلکہ باہر کی جماعتوں کے لئے بھی ہے۔اس لئے میں ہر جگہ سے نوجوانوں اور احمدیوں سے کہتا ہوں کہ وہ تو جو تمہارے کارکن ہیں ، تم ان کو ہوشیار کرو لیکن اگر وہ ہوشیار نہ ہوں تو پھر ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس نازک وقت میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے آگے آئے۔اور سیکر یٹری کا کام خود سرانجام دے۔اگر اس وقت ہماری مالی حالت درست نہ ہوئی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ چار پانچ سال تک ہم پچھلے قرضہ کو اتارنے میں لگے رہیں گے اور نیا کام نہیں کر سکیں گے۔پس یہ ایک نہایت ہی نازک وقت ہے۔اس نازک وقت کی اہمیت کو محسوس کرو اور اپنے فرض کی طرف توجہ کرو۔اور وقت کی نزاکت کا تم اس سے اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ پیشگوئی جو چار ہزار سال سے چند ہزار چلی آرہی ہے کہ ایک زمانہ میں یا جوج و ماجوج کی لڑائی ہونے والی ہے، وہ وقت اب آنے ہی والا ہے۔اس وقت کو اگر ہم نے ضائع کر دیا اور اپنی ترقی کی کوئی کوشش نہ کی تو اس سے زیادہ ظلم اور کوئی نہیں ہوگا۔پس وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہر شخص کھڑا ہو جائے اور قطع نظر اس سے کہ سیکریٹری کون ہے اور پریزیڈنٹ کون؟ وہ خود کام کرنے لگ جائے“۔( مطبوعه روزنامه الفضل 13 اکتوبر 1949ء) 94