تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد سوم۔ 1948 تا 1964) — Page 92
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07اکتوبر 1949ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلدسوم ہے کہ آج کل کے تعلیم یافتہ نو جوان اگر اس رنگ میں کام کریں تو ان کی طبائع پر سخت گراں گزرے۔یعنی بازار میں کھڑے ہو کر عطر کی شیشیاں فروخت کرتے اور پھر جو کچھ آمد ہوتی، اس سے اپنے اخراجات چلاتے۔ایک طرف بازار میں کھڑے ہو کر شیشیاں بیچنا اور دوسری طرف مبلغ کا لباس ہو اور اس کے اعزاز و احترام کا سوال ہو۔یہ بڑا مشکل مرحلہ ہے اور ہر شخص ایسا نہیں کر سکتا۔ہزاروں میں سے کوئی ایک ہوتا ہے، جو بڑامشکل اور ایسا کر سکتا ہے۔بلکہ ہزاروں میں سے بھی نہیں۔لاکھوں میں سے کوئی ایک ہوتا ہے، جو ایسا کر سکتا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ ایسا ہوا بھی کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ تمہاری یہ کیا حالت ہے تم تو مبلغ ہو اور پھیری کا کام، جو گداگری کے برابر ہے، کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا جو سچائی ہے، وہ لوگوں تک پہنچانا ہمارا فرض ہے۔مگر ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے ، وہ خرچ نہیں دے سکتی، اس لئے میں خود کمائی کر رہا ہوں۔اس پر بعض دفعہ ہسپانیہ کے بعض بڑے بڑے آدمیوں نے انہیں چار چار، پانچ پانچ پونڈ تھفہ کے طور پر دیئے اور کہا کہ ہمیں بھی ان نیک مقاصد میں شامل کیجئے۔اسی طرح بعض اور مشنریوں نے اپنی اپنی جگہ اچھا نمونہ دکھایا ہے۔بلکہ بعض مولویوں نے بھی بیرونی ممالک میں نہایت اچھا کام کیا ہے۔عام طور پر مولوی چونکہ باہر نہیں نکلتے ، اس لئے ان کے متعلق یہ شبہ ہی رہتا ہے کہ وہ دلیری سے ہر موقع پر اپنے آپ کو کام کا اہل ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں۔لیکن ہمارے ہالینڈ کے مبلغ حافظ قدرت اللہ صاحب مولویوں میں سے اچھا کام کرنے والوں کی بہترین مثال ہے۔اسی طرح پرانے مبلغوں میں سے مولوی رحمت علی صاحب نہایت اچھا کام کرنے والے ہیں۔ان کے ذریعے ہزاروں افراد کو احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق ملی۔اور نہ صرف عام طبقہ کے لوگوں تک انہوں نے احمدیت کا پیغام پہنچایا بلکہ ملک کے جو چوٹی کے آدمی ہیں، ان کو بھی وہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ابھی ڈاکٹر کہ جوانڈونیشیا کے وزیر اعظم ہیں، ڈچ حکومت سے معاہدہ کرنے کے لئے ہالینڈ گئے اور ہمارا مشنری ان سے ملنے گیا تو ڈاکٹر حطہ نے فوراً کہا کہ میں آپ کی جماعت کو خوب جانتا ہوں۔آپ کے مبلغ مجھ سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ہمیں تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مبلغ ملک کے چوٹی کے آدمیوں تک بھی پہنچتے اور انہیں احمدیت کا پیغام پہنچاتے ہیں۔پس میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے نوجوان قطعی طور پر ناکام رہے ہیں۔ہمارے نوجوانوں میں سے ایک طبقہ ایسا ہے، جو نہایت اچھا کام کر رہا ہے۔امریکن مشن کو خلیل احمد صاحب ناصر نے انگریزی مشن کو مشتاق احمد صاحب باجوہ نے اور سوئزرلینڈ کے مشن کو شیخ ناصر احمد صاحب نے عمدگی سے سنبھالا ہوا ہے۔جرمنی کے مشن کی مشکلات اب شروع ہو رہی ہیں۔پہلے اس مشن میں ایسے آدمی آملے تھے ، جو مجھتے تھے کہ پاکستان اور ہندوستان مالدار ملک ہیں۔ہم اس مشن میں شامل ہو کر 92