تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 725 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 725

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود و 12 اپریل 1946ء بغیر اس نیت اور ارادہ کے کہ وہ اس تعلیم کے نتیجہ میں دین کی خدمت کرے گا، وہ اگر مر جاتا ہے، پیشتر اس کو کے کہ اپنی تعلیم کومکمل کرے تو وہ ایک ایسا بیج ہے، جو ضائع گیا۔مگر وہ جو دین کی خدمت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نیت سے تعلیم حاصل کر رہا ہے۔وہ اگر تعلیم کے دوران میں ہی مرجاتا ہے تو وہ ایسا بیج نہیں، جو ضائع چلا گیا۔بلکہ ایک گٹھلی ہے، جو یہاں سے نکالی گئی اور اگلے جہان میں بودی گئی۔جیسے حضرت مسیح موعود کو صاحبزادہ عبدالطیف صاحب شہید کے متعلق الہام ہوا کہ ” کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔جب دنیا نے کابل کی سرزمین میں ان کی زندگی کو پورا کاٹ کر پھینک دیا تو اللہ تعالیٰ ان کی روح کو لے کر اپنی جنت میں لے گیا اور اس نے قادیان کے باغ جنت میں ان کو داخل کر دیا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔بڑے بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور چھوٹے بھی۔اگر ماں باپ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کرنے کو تیار نہ ہوں تو بچوں کو چاہیے کہ وہ ان سے روٹھ کر بیٹھ جائیں اور کہیں کہ پہلے ہماری بات مانی جائے ، پھر ہم راضی ہوں گے۔اگر بچے اپنے ماں باپ سے کپڑوں کے لئے روٹھ سکتے ہیں ، اگر بچے اپنے ماں باپ سے کھانے پینے کی چیزوں کے لئے روٹھ سکتے ہیں، اگر بچے اپنے ماں باپ سے جوتی اور بوٹ کے لئے روٹھ سکتے ہیں، اگر بچے اپنے ماں باپ سے روٹھ کر انہیں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابا جب تک آپ فلاں کپڑا مجھے خرید کر نہیں دیں گے تو میں کھانا نہیں کھاؤں گایا اماں جب تک مجھے فلاں چیز نہ دی گئی، میں کھانا نہیں کھاؤں گا تو کیا وہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین کے لئے اپنے ماں باپ سے روٹھ نہیں سکتے ؟ کیا وہ اپنے ماں باپ سے یہ نہیں کہ سکتے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے کا موقع دیا جائے ورنہ ہم روٹھے رہیں گے اور کوئی چیز نہ کھائیں گے ، نہ پئیں گے؟ ستیہ گرہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ گاندھی جی کی ایجاد ہے۔حالانکہ ستیہ گرہ وہ چیز ہے، جو بچوں نے آدم کے وقت سے ایجاد کی ہوئی ہے۔گاندھی جی کی ستیہ گرہ تو ہم نے 18 ء یا 19ء میں سنی ہے۔مگر ہم تو خود اپنے بچپن کے زمانہ میں کئی دفعہ ستیہ گرہ کیا کرتے تھے۔بسا اوقات کسی بات پر خفا ہر کر ہم کھانا کھانا چھوڑ دیتے تھے اور گھر والے ہمیں منانے کی کوشش کرتے تھے۔اس ستیہ گرہ میں کئی دفعہ ہم اپنی بات ماں باپ سے منوالیا کرتے تھے اور کئی دفعہ گاندھی جی کی طرح ہم شکست کھا کر روزہ توڑ دیا کرتے تھے۔بہر حال یہ ایک ایسی چیز ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے ہوتی چلی آئی ہے۔پس اگر ماں باپ کے دلوں میں یہ رغبت نہیں پائی جاتی کہ وہ اپنے بچوں کو دین کی خدمت کے لئے پیش کریں تو کیوں بچے خود صحن میں ستیہ 725