تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 668 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 668

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1946ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد دوم ہوں۔ورنہ اکثریت ہماری جماعت میں ایسے ہی لوگوں کی ہے، جو دو آنے فی روپیہ یا تین آنے فی روپیہ یا چار آنے فی روپیہ بلکہ پانچ آنے فی روپیہ تک چندہ دے دیتے ہیں۔( یعنی چندہ عام اور دوسرے چندے تحریک جدید وغیرہ کے ملا کر۔) یہ سب ترقی آہستہ آہستہ ہوئی ہے۔میں مانتا ہوں کہ یکدم کوئی تغیر نہیں ہو سکتا لیکن یہ تمہارا کام تھا کہ تم جلسے کرتے ، والدین کو توجہ دلاتے ، بار بار محلوں میں جاتے اور لوگوں کو بتاتے کہ ہمارے سکول کا نتیجہ خراب ہوتا ہے، ہمیں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔آپ لوگ کیوں اپنے بچوں کی نگرانی نہیں کرتے ؟ کیوں ان کی پڑھائی کی طرف توجہ نہیں رکھتے ؟ کیوں وہ آوارگی کی طرف مائل رہتے ہیں؟ یا تو آپ اس کا انتظام کریں یا ہمیں سزا کی اجازت دیں؟ اگر وہ ایسا کریں تو اساتذہ کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکل آئے گا۔یا تو والدین اس کی خود اصلاح کریں گے یا ان کو سزا کی اجازت دے دیں گے۔لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ ہمیں تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت ہے، سکول والے ہمارے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے عدم تعاون کر رہے ہیں۔اور ہماری امداد کرنے کی بجائے انہوں نے سٹرائیک کی ہوئی ہے۔جو نکھے اور نکھد لڑکے ہوتے ہیں، وہ ہمیں دیتے ہیں۔نہ وہ تعلیمی لحاظ سے اچھے ہوتے ہیں ، نہ ان کو محنت کی عادت ہوتی ہے۔جب ان کو کسی کام پر لگایا جاتا ہے تو وہ بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔معاہدے پر دستخط کرتے ہیں، پیاسا رہوں گا ، ایک پیسہ تک سلسلہ سے نہ لوں گا ، جنگلوں میں جاؤں گا، پہاڑوں میں جاؤں گا، جہاں جانا پڑے، مجھے کوئی عذر نہ ہوگا ، اپنی جان ومال اور عزت کی قربانی کروں گا۔لیکن جب اس کو کسی جگہ مقرر کیا جاتا ہے تو وہاں سے بھاگ جاتا ہے اور ساتھ ہی خط بھی لکھ دیتا ہے کہ چالیس روپے میں گزار نہیں ہو سکتا، اس لئے میں اس کام کو چھوڑنے پر مجبور ہوں ، مجھے معاف کیا جائے اور مجھے واقفین میں ہی سمجھا جائے۔کجاوہ وعدہ جو اس نے ہمارے ساتھ کیا تھا اور کجا اس کا یہ فعل۔ایک واقف نے لکھا کہ میں اداس ہو گیا تھا اور وہاں میرا دل نہیں لگتا تھا ، اس لئے میں وہاں سے گھر آگیا ہوں، مجھے معاف کیا جائے۔امید ہے کہ میرے وقف کو توڑا نہیں جائے گا۔مجھے حیرت آتی ہے کہ ایسے شخص کا وقف کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ میدان سے بھاگ کر اپنے ماں باپ کی بغل میں بیٹھا رہے یا بیوی کے پاس وقت گزارے اور اس کا وقف بھی قائم رہے، یہ تو عقل کے بالکل خلاف ہے۔ہر واقف مجاہد ہے اور مجاہد پر اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی ذمہ داریاں ڈالی ہوئی ہیں۔ان کو پورا کرنے والا ہی مجاہد کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے۔میرے نزدیک نوجوانوں میں محنت سے کام نہ کرنے کی عادت کی ذمہ داری استادوں اور والدین پر عائد ہوتی ہے کہ کیوں انہوں نے بچوں کو محنت اور مشقت کا عادی نہیں بنایا ؟ 668