تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 667
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 25 جنوری 1946ء روس کو دیکھو ، انہیں آدمیوں کی ضرورت تھی۔جنگ سے پہلے روس کی آبادی سترہ کروڑ تھی۔اڑھائی کروڑ کی آبادی انہوں نے لکھی چیز خدادی، نہ دھیلے دی، نہ پادی“ کے مطابق مختلف علاقوں پر قبضہ کر کے بڑھالی، یہ بیس کروڑ ہو گئے۔جنگ میں اس کے ایک کروڑ کے قریب لوگ مر گئے لیکن پانچ کروڑ کی نسل انہوں نے پیدا کر لی ہے۔اور اب روس کی آبادی کا اندازہ 25-24 کروڑ کا ہے۔گویا ایک کروڑ آدمی کے مرنے کے باوجود بھی انہوں نے اپنے ملک کی آبادی بڑھالی ہے۔یہ زندہ قوموں کی علامت ہے۔بعض لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ بچے ہوں تو خرچ کس طرح چلے گا؟ اس لئے نسل کم کی جائے۔لیکن زندہ قومیں اس کی پروا نہیں کرتیں۔وہ کہتے ہیں ، ہمیں آدمیوں کی ضرورت ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کمی کو پورا کر ہیں۔اسی طرح اگر تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت ہو تو پھر وہ اس کمی کو پورا کرتی ہیں۔اگر تجارت اور صنعت و حرفت کی ضرورت ہو تو اس طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔غرض جس چیز کی بھی ضرورت ہو، زندہ قومیں فورا اس طرف متوجہ ہو کر اس کمی کو پورا کر لیتی ہیں۔اور در حقیقت بیداری کے معنی یہی ہیں کہ جہاں کہیں سوراخ ہو ، اس کو بند کر دیا جائے۔مگر یہاں یہ حالت ہے کہ استاد کہتے ہیں، والدین اس طرف متوجہ نہیں ہوتے اور والدین کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے لڑکے ان کو سونپ دیئے ہیں ، اب ان کا فرض ہے کہ وہ ان کی اصلاح کریں۔اور ان والدین کا کہنا ایک حد تک صحیح بھی ہے۔کیونکہ انہوں نے اپنی اولاد ان کے سپرد کر دی ہے۔اب استادوں کا کام ہے کہ ان کی طرف متوجہ ہوں اور ان کی اصلاح کریں۔اگر ان کی اصلاح نہیں ہوئی اور اگر وہ اپنا کام صحیح طور پر نہیں کرتے اور نالائق ثابت ہوتے ہیں تو یہ ان اساتذہ کی نالائقی کا ثبوت ہوگا۔اساتذہ کو تو چاہیے تھا کہ وہ لڑکوں اور ان کے والدین کو بار بار سمجھاتے، کبھی کسی محلے میں جلسے کرتے اور کبھی کسی محلہ میں۔جس محلہ میں جلسہ کرتے ، اس محلہ کے طالب علموں کے والدین کو بلاتے اور انہیں بتلاتے کہ آپ کا لڑکا اتنے دن سکول سے غیر حاضر رہا ہے، اس میں یہ کمزوری اور خامی ہے۔اس طرح والدین کو بھی ان کی کمزوری اور خامی کا علم ہوتا۔اگر تم اس طرح نہیں کرتے تو والدین کو کیا پتہ کہ وہ روزانہ سکول کا کام کرتا ہے یا نہیں ؟ یا جو کام اس کو اسکول سے ملا ہے، اس نے کیا ہے یا نہیں ؟ اگر والدین کو ان کی ان خامیوں کا علم ہو تو وہ پھر اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔شروع میں شاید نہ بھی ہوں لیکن تم انہیں اس بات پر مجبور کر دو کہ یا تو ہمیں اجازت دو کہ ہم مار پیٹ کر ان کی اصلاح کریں اور یا پھر خودان کو با قاعدہ بناؤ۔اس طرح یقینا لڑکے سدھر جائیں گے۔دیکھو جب چندے کی تحریک شروع ہوئی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے ایک پیسہ سے شروع کیا تھا۔مگر اب کم ہی ایسے ہوں گے، جو چندہ نہ دیتے ہوں یا جو چندوں میں سستی کرتے 667