تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 663
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد دوم خطبہ جمعہ فرمود : 25 جنوری 1946ء صاحب جزاک اللہ پہلے اس بات کا علم نہ تھا اور ڈر رہتا تھا کہ ہمیشہ کی دوزخ میں پڑیں گے۔اب یہ بات سن کر سر سے بوجھ اتر گیا ہے کہ آخر تو سب جنت میں اکٹھے ہو جائیں گے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ میں تمہیں چھپیں روپے دیتا ہوں، تم باہر نکل کر پانچ جو تیاں کھا لو۔اس پر وہ بہت سٹ پٹایا اور کہنے لگا مولوی صاحب شرم کی بات ہے ، آپ نے عالم ہو کر ان طالب علموں کے سامنے میری بڑی بے عزتی کر دی۔آپ نے فرمایا کہ اگر تمہیں ان طالب علموں کے سامنے اتنی بات پر اعتراض ہے تو جہاں تمہارے باپ، دادے، پڑدادے سب جمع ہوں گے اور دوزخ میں تمہیں سب کے سامنے پچاس ہزار سال تک جو تیاں پڑیں گی کہ تم دوزخ کے عارضی ہونے پر خوش ہو گئے ہو، وہاں تمہیں شرم نہ آئے گی۔لیکن ہمارے لوگ کہتے ہیں، شکر ہے لڑ کا پاس تو ہو گیا ہے۔ان کو یہ علم نہیں کہ جوں جوں تعلیم آگے چلتی ہے ، مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔سکولوں کا نتیجہ عام طور پر ستر یا پچھتر فیصدی ہوتا ہے لیکن کالج میں جا کر وہی نتیجہ پنتالیس فیصدی ہو جاتا ہے۔حالانکہ کالج میں پڑھنے والے تو وہی طلباء ہوتے ہیں، جو ان سکولوں سے جاتے ہیں، جہاں ان کا نتیجہ ستر یا پچھتر فیصدی ہوتا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ طالب علم کالج میں جا کر کند ذہن ہو جاتے ہیں۔بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ معیار تعلیم بلند ہو جاتا ہے۔پس جولڑ کا پہلے ہی سکول میں تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے کا عادی ہو ، وہ کالج میں جا کر کیا ترقی حاصل کر سکتا ہے؟ ایف۔اے اور بی۔اے میں تو بعض لڑکے پھر بھی فرسٹ ڈویژن حاصل کرتے ہیں۔لیکن ایم اے میں جا کر فسٹ ڈویژن حاصل کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔بعض یونیورسٹیاں ایسی ہیں کہ جن میں آج تک کوئی طالب علم ایم۔اے کا فرسٹ ڈویژن میں پاس نہیں ہوا۔ہمارا ایک احمدی لڑکا ہے، اس نے انٹرنس میں بھی ریکارڈ قائم کیا ، ایف۔اے میں بھی ریکارڈ قائم کیا ، بی۔اے میں بھی ریکارڈ قائم کیا۔سنا گیا ہے کہ جب وہ لڑکا ایم۔اے میں آیا تو ہندو پروفیسروں نے غصے سے اسے کہا کہ دیکھو ہم تمہاری خبر لیں گے۔وہ شاید کوئی الزام لگا کر خبر لیں گے۔لیکن اس سال خبر آئی ہے کہ ایک ہندولڑکے کو انہوں نے سو فیصدی نمبر دے دیئے ہیں تا کہ آئندہ کوئی لڑکا یہ نہ کہہ سکے کہ اس نے ریکارڈ قائم کیا ہے۔اگر سو فیصدی نمبر بھی حاصل کر لے گا تو اتنے نمبر لینے والا ایک لڑکا پہلے موجود ہو گا۔اگر یہ بات درست ہے تو اس طرح انہوں نے اس احمدی لڑکے کا رستہ بند کر دیا ہے۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں طالب علم کالج کی اوپر کی کلاسوں میں جاتا ہے تعلیم سخت ہوتی جاتی ہے۔اگر انٹرنس سے ہی طلباء تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوں تو وہ ایف۔اے میں جا کر فیل ہو جائیں گے اور اگر کچھ طالب علم پاس بھی ہو جا ئیں تو وہ بی اے میں جا کر فیل ہو جائیں گے۔وہ شخص جو اپنے لڑکے کے تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے پر خوش ہوتا ہے، اس کی مثال ایسی 663