تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 646

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 نومبر 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم کے غضب کا مورد بنادیتی ہے۔پس یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ آیا نئے آنے والوں کی وجہ سے ہماری قربانیوں میں ترقی ہوتی ہے یا در حقیقت ہماری جماعت کے لوگ قربانیوں میں ترقی کر رہے ہیں۔اس وقت تحریک جدید کے ماتحت بہت سے کام شروع کئے جاچکے ہیں۔مگر ان کاموں کو صحیح طور پر چلانے کے لئے مزید قربانیوں کی ضرورت ہے۔جس رنگ میں وہ کام ہونے چاہئیں، ابھی تک اس رنگ میں نہیں ہورہے۔جس کی بڑی وجہ جماعت کی قربانی کی کمی ہے۔اگر ان کاموں کو صحیح طور پر چلایا جائے تو جماعت بہت بڑی ترقی کر سکتی ہے اور اپنے منزل مقصود کو زیادہ سرعت کے ساتھ حاصل کر سکتی ہے۔مگر اپنی منزل مقصود کے قریب پہنچا تو در کنار ہماری جماعت کی حالت ویسی ہی ہے، جیسے اس شخص کی ہوگی ، جسے اللہ تعالیٰ دوزخ سے نکال کر باہر کھڑا کر دے گا۔ہم بھی اس وقت ایک درخت کے نیچے کھڑے ہیں لیکن جنت کا دروازہ ابھی تک ہم سے بہت دور ہے۔بڑی بڑی حکومتوں یا بادشاہتوں کی مخالفتوں کا مقابلہ کرنا تو الگ رہا، ابھی تو تمہاری حالت یہ ہے کہ اگر ضلع کی پولیس تم پر مسلط کر دی جائے تو وہ تم سب کو باندھ کر لے جاسکتی ہے بلکہ ضلع کی پولیس تو الگ رہی ، ایک تھانیدار بھی تم پر رعب جما سکتا ہے۔اسلام اور احمدیت کی حکومت تو اس دن قائم ہوگی، جس دن تمہارے ایک ادنیٰ سے ادنی سپاہی کے سامنے بھی بڑے سے بڑے بادشاہ کی گردن جھک جائے اور وہ اس کے سامنے کوئی حرکت نہ کر سکے۔مگر بہر حال جس طرح دوزخ سے باہر آیا ہوا انسان، درخت کے نیچے آکر خوش ہوتا ہے، اسی طرح ہم بھی پہلے درخت کے نیچے پہنچ گئے ہیں لیکن جنت ابھی دور ہے۔ہاں ہر ترقی جو انسان کو حاصل ہوتی ہے، اس پر اسے خوشی ضرور محسوس ہوتی ہے۔جس طرح جب کسی کا بچہ ایک سال کا ہو جاتا ہے اور اس کے دانت نکلنے شروع ہوتے ہیں تو ماں باپ خوش ہوتے ہیں کہ بچے نے دانت نکالنے شروع کر دیئے ہیں۔مگر اس خوشی کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ بچہ جوان ہو گیا ہے یا اس کی آئندہ نسل پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے۔اسی طرح اگر مجھے کوئی کہے کہ آپ نے پچھلے سال بھی جماعت کی ترقی پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور اس سے پچھلے سال بھی تو میں اسے یہی کہوں گا کہ تمہارے بچے کے دانت نکلتے ہیں تو تم خوش ہوتے ہو یا نہیں ؟ تمہارا بچہ گھٹنوں چلتا ہے تو تم خوش ہوتے ہو یا نہیں؟ مگر کیا بچے کا دانت نکالنایا اس کا گھٹنوں چلنا اس کا منتہائے مقصود ہوتا ہے؟ اس کا منتہائے مقصود یہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا منتہائے مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک قوی البنیان، کامل فراست اور کامل فہم رکھنے والا انسان بن جائے اور اس کے ذریعے بنی نوع انسان کی ایک اچھی اور نیک بنیاد قائم کی جائے۔اگر تم اپنے بیٹے کے دانت نکالنے یا گھٹنوں چلنے پر خوش ہو سکتے ہو تو ہماری یہ خوشیاں کیوں نا واجب ہوسکتی ہیں؟ ہم 646