تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 645
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 23 نومبر 1945ء اس وقت اسلام کا جھنڈ ابلند کرنا ہماری جماعت کے سپرد کیا گیا ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 23 نومبر 1945ء اسلام کی جنگ کا زمانہ قریب سے قریب تر آتا جارہا ہے اور ہم ابھی صرف پینترے بدل رہے ہیں۔جیسے پینترے بدلنا اصل چیز نہیں ہوتی بلکہ وہ جسم کو گرم کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اسی طرح ہمارا مختلف قسم کی تحریکات جاری کرنا اور جماعت کو مالی قربانیوں میں حصہ لینے کی دعوت دینا، پینترے بدلنے والی بات ہے ورنہ اصل کام اور ہے۔ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے، ہم نے دنیا کے دلوں اور دماغوں کو فتح کرنا ہے اور اس کے لئے ہمیں جن سامانوں کی ضرورت ہے ، ان کا اندازہ بھی ہم آج نہیں لگا سکتے۔میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک حد تک قربانی کی روح ترقی کر رہی ہے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ جماعت کی تعداد میں جو ترقی ہو رہی ہے، وہی اس کا اصل باعث تو نہیں۔اگر تعداد کے بڑھنے کی وجہ سے قربانی میں ترقی معلوم ہوتی ہے تو پھر یقینا ہم نے کوئی کام نہیں کیا۔قربانی میں ترقی کرنے کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ ہماری ذاتی قربانی بڑھ جائے۔اگر ہم خود کوئی قربانی نہ کریں اور تعداد کے بڑھنے کی وجہ سے کچھ ترقی ہو جائے تو اس ترقی کا ہمارے وجود سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔فرض کرو، پہلے پانچ احمدی تھے اور وہ ڈیڑھ روپے کے حساب سے ساڑھے سات روپیہ چندہ دیتے تھے۔پھر خدا تعالیٰ نے پانچ نئے احمدی بنا دیے اور وہ دس روپے مزید چندہ دینے لگ گئے۔تو یہ لازمی بات ہے کہ اگر پہلے پانچوں کا چندہ ساڑھے سات روپے تھا تو اب ساڑھے سترہ روپے ہو جائے گا۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ پہلے پانچ آدمیوں نے قربانیوں میں ترقی کی اور وہ ساڑھے سات روپے سے ساڑھے سترہ روپے پر آ گئے۔بلکہ یہ زیادتی ان نئے آنے والوں کی وجہ سے ہوگی۔پس وہ نئے احمدی، جو اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں اگر ان کی وجہ سے ہمیں مالی ترقی ہوئی ہے تو یہ جماعت کی قربانی کا ثبوت نہیں ہوگا۔اللہ تعالی کا کام تھا کہ اس نے ان کو ہدایت دے دی۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ ہمارے ایمانوں میں کون سا تغییر پیدا ہوا اور ہم نے کس قربانی کا ثبوت دیا؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ ، جو قربانیوں میں سستی سے کام لے رہے ہیں، خدا تعالیٰ کے قرب سے دور ہو جاتے ہیں اور اس سطح کے قریب آرہے ہیں، جو انسان کو اللہ تعالیٰ 645