تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iii of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page iii

تحریک جدید کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:- وو تحریک جدید کی غرض بھی یہی ہے کہ وہ لوگ جو اس کے چندہ میں حصہ لیں، خدا ان کے ہاتھ بن جائے ، خدا ان کے پاؤں بن جائے ، خدا ان کی آنکھیں بن جائے اور خدا ان کی زبان بن جائے اور وہ ان نوافل کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے ایسا اتصال پیدا کر لیں کہ ان کی مرضی ، خدا کی مرضی ، ان کی خواہشات ،خدا کی خواہشات ہو جائیں“۔تحریک جدید کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 20 جون 1941ء) بیس تحریک جدید کسی ایک سال کے لئے نہیں ، دو سال کے لئے نہیں، دس سال کے لئے نہیں ہیں سال کے لئے نہیں ، سو سال کے لئے نہیں، ہزار سال کے لئے نہیں۔تحریک جدید اس وقت تک کے لئے ہے، جب تک جماعت کی رگوں میں زندگی کا خون دوڑتا ہے۔جب تک جماعت احمد یہ دنیا میں کوئی مفید کام کرنا چاہتی ہے۔اور جب تک جماعت احمد یہ اپنے فرائض اور اپنے مقاصد کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہتی ہے۔تحریک جدید در حقیقت نام ہے، اس جدو جہد کا جو ہر احمد کی کو احمدیت اور اسلام کی اشاعت کے لئے کرنی چاہیے۔تحریک جدید نام ہے، اس جد و جہد کا جو اسلام اور احمدیت کے احیاء کے لئے ہر احمدی پر واجب ہے۔اور تحریک جدید نام ہے، اس کوشش اور سعی کا جو اسلامی شعار اور اسلامی اصول کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے ہماری جماعت کے ذمہ لگائی گئی ہے۔روپیہ کا حصہ صرف ایک ظاہری نشانی ہے کیونکہ اس زمانہ میں کچھ نہ کچھ دولت خرچ کئے بغیر کام نہیں ہوسکتا۔ورنہ در حقیقت تحریک جدید نام ہے، اس عملی کوشش کا جو ہر احمدی اپنی اصلاح اور دوسروں کی اصلاح کے لئے کرتا ہے۔ہر وہ احمدی ، جس کے سامنے تحریک جدید کے مقاصد نہیں رہتے ، درحقیقت وہ اپنی موت کا ثبوت بہم پہنچاتا ہے یا اپنی زندگی کے لئے کوئی کوشش کرنا پسند نہیں کرتا۔خدائی سلسلے در حقیقت انسانوں کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ انسان خدائی سلسلوں کے محتاج ہوتے ہیں۔خطبہ جمعہ فرمودہ 28 نومبر 1947 ء )