تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page iv

وو تحریک جدید کے ذریعہ قرب الہی کے حصول کے متعلق فرمایا : - پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قرب میں آگے بڑھنے کا تحریک جدید کے ذریعہ جو عظیم الشان موقع عطا فرمایا ہے، اس کو ضائع مت کرو۔آگے بڑھو اور خدا تعالیٰ کے ان بہادر سپاہیوں کی طرح، جو جان اور مال کی پرواہ نہیں کیا کرتے ، اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دو اور دنیا کو یہ نظارہ دکھا دو کہ بیشک دنیا میں دنیوی کامیابیوں اور عزتوں کے لئے قربانی کرنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔لیکن محض خدا کے لئے قربانی کرنے والی جماعت ، آج دنیا کے پردہ پر سوائے جماعت احمدیہ کے اور کوئی نہیں۔اور وہ اس قربانی میں ایسا امتیازی رنگ رکھتی ہے، جس کی مثال دنیا کی کوئی اور قوم پیش نہیں کر سکتی۔(مخطبہ جمعہ فرموده 26 نومبر 1943ء) مجاہدین تحریک جدید کے لئے دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔جولوگ اس کام میں حصہ لے رہے ہیں، وہ اشاعت دین کی ایک مستقل بنیاد قائم کر رہے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں کامیاب کر دیا تو وہ عملی طور پر اس بنیاد کو قائم کرنے والے ہوں گے اور اگر میری ان کوششوں میں اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت کامیابی نہ ہوئی ، تب بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ایسے ہی سمجھے جائیں گے جیسے مستقل بنیاد رکھنے والے۔پس ایسی قربانی کرنے والے دوست اس بات کے مستحق ہیں کہ جماعت کے تمام لوگ ان کے لئے دعا کریں۔جو لوگ تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہے، اپنی مجبوریوں کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ یہ طوعی تحریک ہے اور اس میں شمولیت انہوں نے ضروری نہیں سمجھی۔ان کا کم سے کم فرض یہ ہے کہ وہ تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے ، ان کے قدم کو نیکیوں میں بڑھائے اور ان کا انجام بخیر کرئے۔تحریک جدید کے غیر محدود ادوار کے متعلق فرمایا: - وو (خطبہ جمعہ فرموده 18 اکتوبر 1940ء) ہم امید رکھتے ہیں کہ تحریک جدید کے یہ دور غیر محدود ہوں گے اور جس طرح آسمان کے ستارے گنے نہیں جاتے ، اسی طرح تحریک جدید کے دور بھی گئے