تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 70
اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جنوری 1941ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔۔جلد دوم الله وروسوله“ (مشکوۃ صفحه ۱۱) کہ کوئی انسان ایسا بھی ہوتا ہے جو خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرتا ہے۔پس اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہی ہے۔تو ہجرت صرف مدینہ کی ہجرت کا نام نہیں، ہجرت صرف قادیان کی ہجرت کا نام نہیں۔بلکہ ہجرت نام ہے، تمام دنیوی علائق سے آزاد ہو کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دینے کا۔اس وقف کے یہ معنے نہیں کہ انسان تجارت چھوڑ دے یا زراعت چھوڑ دے یا ملازمت چھوڑ دے۔ایک حصہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے مگر باقیوں کے لئے نہیں۔ان کا وقف وہی ہوگا جس کا اس آیت میں ذکر آتا ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ کہ کوئی تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے کلیے وقف کر دیا ہے اور انہوں نے تمام کام چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے۔اور کوئی ایسا بھی ہے جو من ينتظر کے ماتحت ہے۔وہ سودا بج رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے، اب آدھ سیر ہو گیا ہے۔مگر اس کے کان اس طرف لگے ہوئے ہوتے ہیں کہ کب خدا کی آواز آتی ہے؟ وہ دال تول کر گاہک کی جھولی میں ڈال رہا ہوتا ہے اور اس کے کان اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ کب خدا تعالیٰ کی آواز آتی ہے؟ تا میں اپنا مال اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کر دوں۔تم میں سے کئی کہہ دیں گے کہ ہم ایسے ہی ہیں کیونکہ انسان کا نفس ایسے موقع پر ہمیشہ اسے دھوکا دیا کرتا ہے۔مگر تم سمجھ لو کہ اسی حقیقت کو تم پر ظاہر کرنے کے لئے خدا نے پانچ نمازیں مقرر کی ہیں۔ہر روز پانچ وقت خدا تمہارا امتحان لیتا اور پانچ وقت خدا تم پر تمہارے ایمان کی حقیقت آشکار کرتا ہے۔پانچ وقت جب مکبر کھڑا ہوتا اور کہتا ہے حی علی الصلوۃ، حی علی الصلوۃ اے لوگو آؤ نماز کی طرف اے لوگو آؤ نماز کی طرف۔تو اس وقت جب تمہارے کانوں میں یہ آواز آتی ہے اگر تمہارے ہاتھوں پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، تمہارے جسم میں کپکپی پیدا ہو جاتی ہے اور تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم تاجر ہو، تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم زمیندار ہو، تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم صناع ہو، تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم ملازم ہو تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم نجار ہو، تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم معمار ہو، تمہیں بھول جاتا ہے کہ تم لوہار ہو تمہیں صرف ایک ہی بات یا درہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ تم خدا کے سپاہی ہو۔تب اور صرف تب تم اپنے دعوی ایمان میں بچے سمجھے جاسکتے ہو۔لیکن اگر تمہارے اندر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی اور خدا تعالی کی آواز تو تمہیں یہ کہتی ہے کہ 70