تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 687

رید- ایک الہی تحریک جلد دوم "" " اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 15 فروری 1946ء واقعہ یہی ہے کہ قلوب کو بدلنا کوئی معمولی بات نہیں۔ہمارے چند پیسے چندوں میں دے دینا، ہمارے چند نو جوانوں کا زندگی وقف کر دینا محض ایسا ہی ہے، جیسے لہو گا کر شہیدوں میں داخل ہو جانا۔قلوب جب بھی بدلتے ہیں، آسمانی تقدیر کے ساتھ بدلتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض معقول باتیں ہوتی ہیں لیکن ضدی طبائع کے ساتھ ملکر اٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں۔اور بعض غیر معقول باتیں ہوتی ہیں لیکن وہ اس طرح اثر کرتی چلی جاتی ہیں، جس طرح موافق ہوا کے باعث بادبانی کشتی اڑتی چلی جاتی ہے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ آج کل خدا تعالیٰ کے حضور خاص طور پر دعائیں کریں۔مگر دعائیں اس رنگ میں نہیں ہونی چاہیں، جس رنگ میں عام طور پر لوگ کرتے ہیں۔بلکہ حقیقی رنگ میں دعا کرنی چاہیے۔اور حقیقی دعاوہ ہوتی کہ جب قلوب پر اثر ہوتا ہے تو آپ ہی آپ دل اور زبان سے دعا نکلتی چلی جاتی ہے۔انسان کام بھی کرتا جاتا ہے اور دعا بھی نکلتی جاتی ہے۔تم سجدہ چوبیس گھنٹے نہیں کر سکتے تم رکوع چوبیس گھنٹے نہیں کر سکتے تم قیام چوبیس گھنٹے نہیں کر سکتے تم قعدہ چوبیس گھنٹے نہیں کر سکتے لیکن چوبیس گھنٹے تمہارے دل میں ایک جوش رہ سکتا ہے۔اور اس کی وجہ سے دعا تمہارے دل پر جاری رہ سکتی ہے۔سوال صرف اس قدر ہے کہ ہم اس کے آلہ کار بن جائیں۔تا کہ ہمارے ذریعہ وہ مقصد پورا ہو جائے، جس لئے ہمیں اس کے حضور جھک کر ایک نَعْبُدُ کے ماتحت اپنی زندگیاں وقف کر دینی چاہیں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِینَ کے ماتحت اپنی دعاؤں کو وقف کر دینا چاہئے۔اگر ہم ایسا کر دیں تو یقینا اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ ایسا صراط مستقیم پیدا فرمادے گا، جس سے احمدیت دنیا میں غالب آجائے گی، رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام دنیا میں پھر روشن ہو جائے گا، قرآن کریم پھر بولنے والی کتاب بن جائے گا، جولوگوں سے باتیں کرے گی ، ان کی اصلاح کرے گی اور ان کے اندرونی نقائص کو دور کر دے گی۔مگر ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے اپنے آپ کو اس کے فضلوں کے مستحق بنائیں اور خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں کریں کہ وہ ہمیں اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنا آلہ کار بنالے، وہ ہماری زبانوں میں اثر پیدا کرے، وہ ہماری آنکھوں میں اثر پیدا کرے، وہ ہمارے ہاتھوں میں اثر پیدا کرے تا کہ اگر ہم کچھ لکھیں تو وہ لوگوں کے دلوں میں اتر جائے ، کسی طرف آنکھ اٹھا ئیں تو اس کے دل میں نرمی پیدا ہو جائے، کوئی بات کریں تو لوگ اس کے ماننے پر آمادہ ہو جائیں اور پھر وہ ہمارے قلوب کی ایسی حالت کر دے کہ جب ہم خواہش کریں کہ فلاں علاقہ اسلام میں داخل ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے فوراً آمین کہیں اور خدا تعالیٰ عرش سے حکم نازل کرے کہ ایسا ہو جائے۔ہم تو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہدایت پا 687