تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 580

خطبه جمعه فرمود : 24 اگست 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد دوم تاج محل بنوایا ، میں سمجھتا ہوں کہ اس نے روپے کا اسراف کیا اور ایسی چیز پر روپیہ خرچ کیا، جس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔لیکن جہاں تک عمارت بنانے کا سوال ہے، اس نے عظیم الشان نشان دنیا میں چھوڑا۔فرض کروشاہ جہان کو یہ یقین ہوتا کہ میرے مرنے کے بعد صرف سو سال یا دو سو سال تک تاج محل قائم رہے گا ، اس سے زیادہ اس کا نشان دنیا میں قائم نہ رہے گا تو بھی وہ کہتا کہ سو یا دو سو سال تک جلوہ دکھا جانا بھی کوئی چھوٹی بات نہیں۔لیکن اس کے مقابل پر مومن کے لئے غیر محدودزندگی اور غیر محدود انعام ہیں اور مومن کا اندازہ دنیا کے اندازے سے نرالا ہوتا ہے۔غیر مومن لوگ اپنے کاموں کا اندازہ میں چھپیں یا پچاس یا سو سال تک لگاتے ہیں، کچھ لوگ اور زیادہ اندازہ لگاتے ہیں تو ہزار سال تک اپنی ترقی کی امید رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کے لئے انہیں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ہٹلر کی امنگوں اور اس کے جذبات اور اس کی بیداری کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اس زمانہ کا ایک غیر معمولی انسان تھا، جس کے اندر ایک ایسی آگ تھی، جو اپنے گردو پیش کی سینکڑوں میل تک کی چیزوں کو بھسم کرتی چلی جاتی تھی۔وہ آگ نہ تھی بلکہ کہنا چاہئے کہ وہ ایک آتش فشاں پہاڑ تھا، جس نے اپنے سارے ملک کو ہلا دیا۔لیکن باوجود ان تمام باتوں کے اس کا اندازہ یہ تھا کہ وہ اپنے ملک اور اپنی قوم کو ایک ہزار سال کے لئے محفوظ کر جائے اور اپنے ملک اور قوم کو ایک ہزار سال تک محفوظ کرنے کے لئے اس نے اور اس کی قوم نے جوقربانیاں کیں ہیں، وہ کتنی حیرت انگیز ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اس کے مقابل پر جو طاقتیں تھیں، وہ اس سے زیادہ زبر دست تھیں اور اس وجہ سے وہ شکست کھا گیا یا یہ سمجھ لو کہ اس نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر بھڑ کا لیا۔لیکن جہاں تک دنیوی لحاظ سے قربانیوں کا تعلق ہے، اس نے حیرت انگیز کام کیا۔اسی طرح نپولین اور تیمور بھی دنیا کے غیر معمولی انسانوں میں سے ہیں۔اور یہ لوگ انسانوں میں سے عجیب قسم کی مثالیں ہیں۔ان کے کاموں سے پتہ لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر کتنی عظیم الشان طاقتیں محفوظ رکھی تھیں؟ ہٹلر کا سب سے بڑا اندازہ جو تھا، وہ ایک ہزار سال کا تھا۔لیکن ہٹلر کے علاوہ جو دوسرے بڑے بڑے لیڈر گزرے ہیں، ان کا اندازہ صرف سو سال یا دو سو سال کا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ سو سال کے لئے یا دو سو سال کے لئے اپنی قوم کو بلند کر جائیں۔اتنے تھوڑے عرصہ کے لئے انہوں نے ایسی ایسی قربانیاں کی ہیں، جو انسان کومحو حیرت بنادیتی ہیں۔مثلا تیمور کو ہی دیکھو کہا جاتا ہے کہ بعض جگہ اس کے مردوں کی لاشیں جمع کی گئیں تو وہ ایک ٹیلہ بن گیا۔یہ قربانیاں اس نے کس لئے کہیں ؟ صرف اس لئے کہ اس کی قوم کچھ عرصہ کے لئے دنیا میں بلند ہو جائے اور اس کی قوم کو عزت کی نظر سے دیکھا جائے۔580