تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 564

اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم جون 1945ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اس قربانی کے لئے تیار نہیں ، جو قوم کونئی زندگی بخشنے والی ہو تو یقینا وہ نہایت ہی بے حیا اور نہایت ہی بے شرم انسان ہے اور اس کی زندگی سے اس کی موت ہزار درجے بہتر ہے۔ہمیں غور کرنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ سے اسلام نے وہ شوکت حاصل کی تھی کہ یہ بڑی بڑی حکومتیں اور طاقتیں ، جو آج نظر آتی ہیں ، غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑی رہتی تھیں۔لیکن آج مسلمانوں کی اولا دیور پین لوگوں کی جوتیوں کی مار کھانے پر بھی اف نہیں کر سکتی اور کوئی احتجاج نہیں کر سکتی۔اس حالت کو دیکھنے کے بعد اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس دنیا میں نہ آئے ہوتے ، اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نئی امیدیں اور نئی ترقی کی راہیں نہ دکھلا گئے ہوتے ، تب بھی میں سمجھتا ہوں، ایک غیرت مند انسان جب تک ان حالات کو بدل نہ لیتا، ایک منٹ کے لئے بھی آرام نہ کر سکتا۔مگر اب تو ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔ایک طرف ہمارے اسلاف کے کارناموں کے متعلق ہماری غیرت مطالبہ کرتی ہے اور دوسری طرف پیارے خدا کی آواز ہم سے مطالبہ کرتی ہے۔گویا دور سیاں ہیں، جو ہمیں آگے کھینچ رہی ہیں۔ہمارے اسلاف بھی پکارتے ہیں کہ کوئی ہماری ذلت اور بدنامی کے دھبے دھوئے اور ہمارا خدا بھی بلاتا ہے کہ آؤ اور دین کی خدمت کر کے انعام پاؤ۔اگر ان کششوں کے باوجود ہمارے اندر قربانی کی روح پیدا نہیں ہوتی ، اگر ان دو کششوں کے باوجود ہمارے قدم آگے نہیں بڑھتے ، اگر ان دو کششوں کے باوجود ہم اپنی موت کو شیر میں خیال نہیں کرتے اور اپنی موت کو سب سے میٹھا پھل نہیں سمجھتے تو یقینا ہم اس دنیا میں اور اگلے جہان میں رہنے کے قابل نہیں اور ذلت اور رسوائی ہی ہماری حقیقی جزا کہلا سکتی ہے۔پس چاہیے کہ جماعت اپنی حالت پر غور کرے اور اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کا فیصلہ کرے۔اب زمانہ خاموشی کا نہیں، اب زمانہ ٹھہرنے کا نہیں۔جو شخص کھڑا ہو گا وہ مارا جائے گا اور تباہ اور برباد کر دیا جائے گا۔یہ زمانہ ایسا ہے، جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کو پل صراط پر چلنا پڑے گا۔ان کے دائیں بھی جہنم ہوگا اور ان کے بائیں بھی جہنم ہوگا۔وہ ذرا ادھر ادھر ہوں گے تو تباہ ہو جائیں گے۔یہی ہماری حالت ہے۔اگر ہم اپنے قدموں کو روک کر کھڑے ہوں گے تو گریں گے۔دائیں طرف گریں گے تو جہنم ہوگا، بائیں طرف گریں گے تو جہنم ہوگا۔ہمارے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہی سیدھا راستہ ہے کہ ہم آفات کی پروانہ کرتے ہوئے، سیدھے چلے جائیں اور ہمارے سامنے ہر وقت ہماری منزل مقصود ہو۔اگر ہم منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں تو وہاں ہمارا سب سے بڑا انعام اللہ وہاں کھڑا ہو گا۔564