تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 872

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد دوم۔ 1940 تا 1947) — Page 33

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد دوم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 اکتوبر 1940ء تحریک جدید کے کاموں میں حصہ لینے والوں کے لئے دعا کی تحریک " خطبہ جمعہ فرمودہ 18 اکتوبر 1940ء دوسری چیز جو ان دعاؤں میں یاد رکھنی چاہئے ، وہ تحریک جدید کے چندہ کے مطالبہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔دوستوں کو معلوم ہے کہ میں یہ کوشش کر رہا ہوں ( اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں اس کوشش میں کامیاب ہوتا ہوں یا نہیں۔اور میری اس جدو جہد کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ ابھی تو اس میں بہت سی مشکلات اور روکیں حائل ہو رہی ہیں۔) کہ تحریک جدید کے چندے سے ایک ایسا مستقل فنڈ قائم کر دیا جائے جس کے نتیجہ میں تبلیغ کا کام عام چندوں کے بڑھنے گھٹنے کے اثر سے آزاد ہو جائے۔جو لوگ اس کام میں حصہ لے رہے ہیں، وہ اشاعت دین کی ایک مستقل بنیاد قائم کر رہے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں کامیاب کر دیا تو وہ عملی طور پر اس بنیاد کو قائم کرنے والے ہوں گے اور اگر میری ان کوششوں میں اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت کامیابی نہ ہوئی، تب بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ایسے ہی سمجھے جائیں گے جیسے مستقل بنیا درکھنے والے۔پس ایسی قربانی کرنے والے دوست اس بات کے مستحق ہیں کہ جماعت کے تمام لوگ ان کے لئے دعا کریں۔جو لوگ تحریک جدید میں حصہ نہیں لے رہے، اپنی مجبوریوں کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ یہ طلوعی تحریک ہے اور اس میں شمولیت انہوں نے ضروری نہیں مجھی۔ان کا کم سے کم فرض یہ ہے کہ وہ تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کے لئے دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول فرمائے ، ان کے قدم کو نیکیوں میں بڑھائے اور ان کا انجام بخیر کرے۔در حقیقت صحیح معنوں میں نیک وہی ہے جس کا انجام نیک ہو اور بد وہی ہے جس کا انجام برا ہو۔قرآن کریم نے اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت یعقوب علیہ السلام کی یہ وصیت بیان فرمائی ہے۔جو انہوں نے اپنے بیٹوں کو کی کہ: فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ اس کا یہ مطلب نہیں کہ درمیانی زندگی میں تم بے شک بد معاش رہنا صرف مرتے وقت خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جانا بلکہ حضرت یعقوب یہ فرماتے ہیں کہ میں تو تمہارے انجام کو دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے 33